دنیا میں کسی
نہ کسی جگہ ہر لمحے کسی نہ کسی انسان کی جان بچانے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی
ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کا عطیہ دینے سے صحت پر کوئی مضر اثرنہیں پڑتا۔
ہر سال دنيا
ميں 8 کڑوڑ سے زيادہ خون کے يونٹ جمع کيے جاتے ھيں۔ ایک يونٹ 450 ملي لٹر کا ہوتا
ہے۔ اگر آپ حساب نہ بھي لگاءیں تو بھی یہ بات واضح ہے کو بہت سا خون اکٹھا کيا
جاتا ہے۔ ليکن مسئلہ يہ ہے کے جتنا خون عطیہ کيا جاتا ہے وہ خون کي طلب کو پورا
نھيں کرتا۔ خون لال خليوں ، سفيد خليوں اور پلیٹ لٹس پر مشتمل ہوتا ہے، جو پورے
جسم ميں پلازما نامی مادے کے ذريعے گردش
کرتا ہے۔ مريضوں کو بہت کم پورے خون کي تبديلي کي ضرورت پڑتی ہے ۔ انکو بيماری کے مطابق ان میں سے کسی ایک کی ضرورت
پڑتی ہے۔
امریکن ریڈ
کراس سوسائٹی میں ماہر خون پال شرلاک کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر خون کے لال خلیوں
کی ضرورت بہت شدید ذخمی حالت میں پڑتی ھے۔
شرلوک کہتے
ہيں کہ خون کے لال خلیوں کی ضرورت صرف ان
لوگوں کو پڑتی ھے جن کا بہت زیادہ خون بہ چکا ہو۔ لال خلیوں
میں ہیموگلوبین ہوتا عے جس کے ذریعے آکسیجن پورے جسم میں پہنچتی ھے اور یہ خون کو
لال رنگ دیتا ہے لیکمیا اور سکل سیل اینیمیا کے
مریضوں کو لال خلیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
خون میں سفید
خلیے بھی ہوتے ہیں جو وبائی امراض سے
بچاتےہیں۔ پلیٹلٹس بھی
خون کا ا ہم جزو ہیں جو زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ھیں۔ یہ ہڈیوں کے گودے میں بنتے ہیں لیکن انکی زندگی
بہت کم ہوتی ھے۔ وہ مریض جو کیمو تھراپی کرواتے ییں انکو پلیٹلٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔