بھارت میں حکمران اتحاد ایک طرف امریکہ کے ساتھ متنازعہ
سولین جوہری معاہدے پر جلد از جلد عمل درآمد کے لیے زور دے رہا ہے، دوسری طرف وہ
اس کے لیے مطلوب سیاسی حمایت کے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔
سیکریٹری خارجہ،
شیو شنکر مینن نے آج جمعے کو نئی دہلی میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ حکومت جلد
از جلد اِس معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے
میں پیش رفت چاہتی ہے۔
نیوکلیر معاہدے پر حمایت کے حصول کی غرض سے، اِس سے
پیشتر،وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے علاقائی سماج
وادی پارٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔ اِتحاد، اِس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ حکمراں پارٹی میں شامل کمیونسٹ اتحادیوں نے
دھمکی دی ہے کہ معاہدے پر عمل کی صورت میں
وہ انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔
سماج وادی پارٹی کے رہنماؤں نے آج کانگریس پارٹی اور جوہری
معاہدے کی حمایت کرنے کا عندیہ دیا ہے، جِس کے باعث عشروں میں
پہلی بار،بھارت امریکہ سے نیوکلیر ایندھن اور ٹیکنالوجی درآمد کر سکے گا۔
اِس کے عوض، بھارت اپنے سولین اور فوجی نیوکلیر پروگراموں کو ایک دوسرے سے الگ کرے
گا اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کو ملک آنے دے گا۔
دریں اثنا، بھارت کی کمیونسٹ جماعتوں نے آج جمعے کے دِن
حکومت کو جولائی کی سات تاریخ تک کی مہلت دی ہے، کہ وہ یہ واضح کر دے کہ
کیانیوکلیر معاہدے پر عمل درآمد اور بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے سے توثیق کی
خواہاں ہے۔
کمیونسٹ لیڈروں نے یہ بھی اعلان کیا ہے وہ معاہدے کی مخالفت
کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی غرض سے،14جولائی سے ملک گیر مہم کا آغاز کریں گے
۔اُن کے بقول، اِس سمجھو تے کے باعث،
بھارت کے فوجی پروگرام پر حرف آسکتا ہے، اور بھارت امریکہ کے ساتھ نتھی ہو جائے گا۔
اگلے ہفتے جاپان میں جی۔ایٹ سربراہی اجلاس کے دوران، وزیرِ اعظم من موہن
سنگھ، امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کرنے والے ہیں۔