جمعے کو سری نگر میں فوجی عہدے داروں نے اعتراف کیا کہ
طرفین کے درمیان معرکہ آرائی جاری ہے اور تاحال 12عسکریت پسند اور تین جونئیر
کمیشنڈافسروں سمیت چھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
سری نگر میں پولیس نے سرکردہ آزادی پسند رہنماؤں سید علی
شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو اُن کے گھروں میں نظربند کر دیا تاکہ وہ
درگاہ حضرت بَل میں ایک مجوزہ عوامی جلسے سے خطاب نہ کر سکیں۔ تاہم، سید گیلانی کے
دستِ راست، محمد اشرف صحرائی اور ایک اور سرکردہ آزادی پسند لیڈر سید شبیر احمد
شاہ غیر معمولی حفاظتی پابندیوں کے باوجود درگاہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
جب نمازیوں سے خطاب کرنے کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کی میعت
میں باہر گئے،تو اُن کے حامیوں نے آزادی کے مطالبے کے حق میں نعرہ بازی شروع کردی،
تو پولیس اُن پر ٹوٹ پڑی۔ پولیس کارروائی میں شبیر شاہ کے سر میں چوٹ آئی۔اُنہیں
فوری طور پر اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت خطرے سے باہر
بتائی ہے۔
اُدھر، جموں، سانبا اور بدروا کے بعد کوٹوا میں بھی امرناتھ
ٹرسٹ کے لیے وقف کی گئی ایراضی کا فیصلہ منسوخ کیے جانے کے خلاف تشدد بڑھنے کے بعد
کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔