افغان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ مشرقی افغانستان میں امریکی قیادت میں کیے گئے
ایک اتحادی فضائی حملے کے نتیجے میں 22شہری ہلاک ہوئے۔
یہ حملہ آج جمعے کو پاکستانی سرحد سے ملحقہ نورستان صوبے کے
ایک دور افتادہ ضلعے میں ایک سڑک پر ہوا۔
یہ بات ضلعے کے سربراہ ضیا الرحمٰن نے اخباری نامہ نگاروں کو بتائی۔
اُن کا کہنا تھا کہ لوگ، شہری علاقہ چھوڑ کر جا رہے تھے، جب اُن کی گاڑیاں بمباری کی زد میں
آئیں۔
جاری کیے گئے بیان میں، امریکی قیادت میں لڑنے والی اتحادی
افواج نے اِس فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔ لیکن ذرائع نے اِس بات کی تردید کی کہ
حملے میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملہ ، جنگ جوؤں کی طرف سے اڈے پر حملے کے جواب میں کیا گیا، اور یہ
کہ اِس میں انتہا پسند ہلاک ہوئے، نہ کہ شہری۔ افغان صدر حامد کرزئی نے غیر ملکی افواج پر زور دیا ہے کہ
لڑائی میں شہری ہلاکتیں کم سے کم ہونی چاہیئں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال میں اب تک 700سے زائد
شہری، طالبان مزاحمت کاروں اور غیر ملکی افواج کے درمیان فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوچکے ہیں۔