وفاقی وزارت داخلہ نے قبائلی علاقوں کی انتظامیہ اور مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان تین صحافیوں کی محفوظ طریقے سے بازیابی کے لیے کوششیں کریں جنہیں مشتبہ طالبان جنگجوؤں نے مربل زیارت کے علاقے سے جمعرات کی شب اغواء کر لیا تھا۔ وزیراعظم کے داخلہ امور کے مشیر رحمن ملک نے اپنے بیان میں اغواء کاروں کی گرفتاری اور ان کے خلاف سخت کاروائی کا بھی سخت حکم دیا ہے۔جن صحافیوں کو اغوا کیا گیا ہے ان میں پیر زبیر شاہ وزیر، اختر سومرو اور ایک مقامی صحافی عبدالحسن شامل ہیں۔
مقامی لوگوں اور اطلاعات کے مطابق افغان سرحد سے ملحقہ مہمند ایجنسی میں طالبان عسکریت پسندوں نے صحافیوں کواغوا کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ افراد علاقے میں طالبان جنگجوؤں اور مختلف مقامات کی خفیہ طور پر عکس بندی کررہے تھے ۔ طالبان کے ایک ترجمان کے بقول مغویوں کی قسمت کا فیصلہ طالبان کے ایک اجلاس میں کیا جائے گا۔
مہمند ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مقامی جرگے کی مدد سے صحافیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں تاہم فوری طور پر ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے ۔
خیال رہے کہ حالیہ چند برسوں میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحافیوں کے اغواء اور قتل کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جبکہ حکومت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں خصوصاً غیر ملکی صحافیوں کو افغان سرحد سے ملحقہ ان علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔صحافیوں کے قتل کے واقعات میں قابل ذکر گذشتہ ماہ باجوڑ کے علاقے میں ایک مقامی صحافی ابراہیم کو اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ طالبان لیڈر بیت اللہ محسود کے نائب مولوی عمر کا انٹرویو کر کے واپس آرہے تھے جبکہ دو سال قبل شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی حیات اللہ کو بھی اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق پاکستان کا شمار ان چند ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ذرائع ابلاغ کی نمائندگی کرنے والے افراد کے لیے بہت زیادہ خطرات ہیں۔