 |
| ڈاکٹر عبدالقدیر خان |
پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حالیہ بیان جس میں انہوں کہا ہے کہ پاکستان سے شمالی کوریا کو جوہری ساز و سامان کی منتقلی کے بارے میں فوج کو مکمل آگاہی تھی۔ تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے جوہری اثاثوں کے بارے میں نہ صرف مزید سوالات اٹھیں گے بلکہ بین الاقوامی دباؤ میں بھی اضافہ ہو گا۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ نگا ر جنرل رٹیائرڈ طلعت مسعود نے ڈاکٹر قدیر خان کے حالیہ بیان کے بارے میں کہا کہ اس سے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گا ، انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح جوہری سائنسدان نے کہا ہے کہ فوج اور صدر مشرف کے بغیر یہ سب کچھ ممکن نہیں تھا، فوج دباؤ کا شکار ہو گی۔
طلعت مسعود کا کہنا تھاکہ دہشت گردی میں پاکستان جس طرح سے امریکہ کا اتحادی ہے حالیہ بیان کے بعد امریکہ اور نیٹو کی جانب سے پہلے سے موجود دباؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیان پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور ڈاکٹر قدیر خان کو ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جس سے حالات مزید پیچدہ ہوں۔
ڈاکٹر قدیر خان کے بیان کے بارے میں حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما ء راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خان کا یہ بیان پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو گا اور پاکستان کے جو بنیادی مفادات ہیں ان کو اس بیان سے نقصان پہنچے گا۔تاہم انہوں نے اس موقع پر صدر مشرف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے صدر مشرف نے تحریری طور پر اپنی کتاب میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں راز افشاں کیے جو قومی مفاد کے بالکل خلاف تھے۔ انہوں نے صدر مشرف پر الزام لگایا کہ انہوں نے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر حساس معاملات پر کھل کر بات کی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے منصوب حالیہ بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ جس جہاز میں یورینیم افزودہ کرنے کے آلات شمالی کوریا کو بھیجے گئے تھے وہ شمالی کوریا کا طیارہ تھا اور فوج کو اس بات کا علم تھا کہ طیارے میں کیا سامان جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان 2004 سے اپنے گھر میں نظر بند ہیں اور گزشتہ چند ہفتوں سے ان پر عائد پابندیوں میں خاصی نرمی کی گئی جس کے بعد مختلف مواقع پر انہوں نے ٹیلی فون پر صحافیوں سے بات چیت بھی کی اور اپنی نظر بندی کی زندگی کے علاوہ یہ بھی کہا کہ 2004 میں انہوں سرکاری ٹی وی پر جو بیان دیا تھا وہ دباؤ کے تحت دیا گیا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر قدیر خان نے 2004 میں سرکاری ٹی وی پر یہ اعتراف کیا تھا کہ ایران ، شما لی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی اور ساز وسامان کی فراہمی کے خود ذمہ دار ہیں۔تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے ڈاکٹر خان نے کھل کر فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جس سے جوہری پھیلاؤ پر پاکستان کو عالمی تنقید کا سامنا رہے گا۔