 |
باڑہ میں جاری فوجی آپریشن کا ایک منظر
|
خیبر ایجنسی کے باڑہ سے تعلق رکھنے والے روایتی قبائلی
رہنماؤں نے حکومت اور مقامی مذہبی تنظیم لشکرِ اسلام کے سربراہ منگل باغ کے درمیان
مفاہمت کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
اِس سلسلے میں، ایک 18رکنی جرگے نے خیبر ایجنسی کے
دوراُفتادہ علاقے وادیٴ تیرہ میں مذہبی تنظیم کے سربراہ منگل باغ سے بات چیت کا
پہلا دور مکمل کر لیا ہے، اور اب جرگہ ممبران ہفتے کے روز انتظامیہ میں شامل حکام
سے بات چیت کر رہے ہیں۔
جرگے کے ترجمان حاجی شوکت
کے مطابق : 'یہ ہمارا علاقہ ہے۔ ہمارے بچے ہیں، ہمارے بزرگ ہیں۔ ہم تو کوشش
کرتے رہیں گے۔ کسی دوسرے کے لیے نہیں، ہم اپنے لیے (امن کی کوششیں)کر رہے ہیں۔'
اُن کا کہنا تھا کہ جرگے میں امن مذاکرات ہمیشہ کامیاب رہے
ہیں۔
انتظامیہ میں شامل حکام اور مذہبی تنظیم نے جرگہ ارکان کو
اپنے مطالبات اور شرائط بھی پیش کیے ہیں۔
حکام کا موقف ہے کہ مذہبی تنظیم قانون کی عملداری تسلیم
کرلے۔
اُدھر، مہمند ایجنسی میں اغوا کیے جانے والے صحافیوں کی
بازیابی کے لیے جرگہ ممبران نے طالبان رہنماؤں سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں، جب کہ
ہنگو میں اغوا کیے جانے والے سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کو طالبان نے رہا کر دیا
ہے۔