.JPG) |
پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف
|
وزیرِ اعلیٰ پنجاب، شہباز شریف نے صدر پرویز مشرف سے فوری
استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔اُنہوں نے یہ مطالبہ اُس وقت کیا جب ایک روز قبل ہی صدر
مشرف نے اپنی چار ماہ کی خاموشی کو توڑتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ کہیں نہیں جا
رہے اور یہ کہ موجودہ صورتِ حال میں اُن کا بھی کردار ہے۔
میاں شہباز شریف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ
صدر مشرف استعفیٰ دے دیں، یہ اُن کا بہت بڑا احسان ہوگا۔
براہِ کرم، وہ ایک سیکنڈ کی تاخیر نہ لگائیں اور استعفیٰ
دے دیں۔ یہ پاکستان کے اوپر اُن کا سب سے بڑا احسان ہوگا، کیونکہ وہ جمہوریت کی
پیداوار نہیں۔ اُنہوں نے جمہوریت پر شب خون مارا تھا اور آٹھ سال وہ اِس ملک کے
اوپر مختارِ کُل کی طرح حکمرانی کرتے رہے اور ڈنڈے اور توپ کے زور پر اُنہوں نے
فیصلے منوائے۔'
پاکستان مسلم لیگ ن حکمراں اتحاد میں شامل ہے جِس کی قیادت
پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔ سیاسی سطح پر حکمراں اتحاد کو جِن دو مسائل کا
سامنا ہے اُن میں ججوں کی بحالی اور صدر کا مواخذہ شامل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان اِن
مسائل پر اختلافات کُھل کر سامنے آتے رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے وزرا نے وفاقی کابینہ سے اُس وقت استعفیٰ دے
دیا تھا جب ججوں کو، بقول اُن کے، طے شدہ وقت کے اندر بحال نہیں کیا گیا۔
امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ باؤچر نے اپنے حالیہ دورہٴ
پاکستان کے موقعے پر کہا تھا کہ امریکہ صدر پرویز مشرف کو ہی پاکستان کا صدر تسلیم
کرتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے ایک دن پیشتر صدر مشرف نے کراچی میں
تاجروں کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ان کا استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ
صرف اس صورت میں صدارت چھوڑ سکتے ہیں کہ اس سے ملک کے مسائل حل ہو جایئں گے۔