 |
زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے
|
ایک برطانوی اخبار نے کہا ہے کہ زمبابوے کی ایک جیل سے حاصل
کردہ خفیہ ویڈیو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدر رابراٹ موگابے کے حامیوں نے کس طرح 27
جون کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جعل سازی کی۔
اخبار گارڑین کا کہنا ہے کہ جیل کے سابق گارڈ شیفرڈ یودا نے
وہ فلم صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے چھ روز پہلے اخبار کے لیے بنائی
تھی اور اسے زمبابوے سے باہر اسمگل کردیا تھا۔
اس فلم میں بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ حکمران جماعت زانو
پی ایف کے عہدے دار ہرارے کی مرکزی جیل میں عہدے داروں کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ
موگابے کے لیے اپنے ووٹ ڈالیں۔فلم میں حزب اختلاف کے ایک ممتاز راہنما تندائی بیٹی
کے پاؤں میں بیڑیاں بھی پڑی ہوئی دکھائی گئی ہیں۔
اسی اثناءمیں اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ہفتے کے روز خبر دی کہ
رابرٹ موگابے نے انتخاب کے پہلے مرحلے میں ناکامی کے بعد ابتدا میں اقتدار سے دست بردار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا
۔
اخبار نے ایک اہم اجلاس میں موجود ذرائع کے حوالے سے کہا ہے
کہ فوجی عہدے داروں نے رابرٹ موگابے کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ انتخاب کے دوسرے
مرحلے میں فوج کو استعمال کرکے اپنا اقتدار برقرار رکھیں۔
زمبابوے کی حکومت نے کسی بھی رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا
ہے۔
جیل کے سابق گارڈ یودا نے کہا ہے کہ اس نے وہ خفیہ ویڈیو
اس کے بعد بنائی تھی جب موگابے کے حامیوں
نے دوماہ قبل اس کے چچا کو ہلاک کردیا تھا جو حزب اختلاف کے ایک سرگرم کارکن تھے۔
36 سالہ یودا اس کے بعد سے اپنی بیوی اور بچوں کےساتھ زمبابوے سے فرار ہوچکاہے۔
حزب اختلاف کی جماعت موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج نے کہا ہے
کہ انتخاب سے منسلک تشدد میں اس کے 103 حامی ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ کہ لگ بھگ 5
ہزار لاپتہ ہیں۔