ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کا ملک
اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم ایران یورینیم کی افزودگی کے
اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوگا۔
ہفتے کے روز غلام حسین الہام کی جانب سے یہ تبصرے اس کے ایک
دن بعد سامنے آئے جب ایران نے چھ عالمی طاقتوں ، روس، چین ، فرانس ، جرمنی ،
برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے ترغیبات کے ایک پیکج پر اپنا سرکاری ردعمل ظاہر
کیا۔
ان چھ حکومتوں نے ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے پر
رضامندی کی صورت میں اسے اقتصادی اور تجارتی مراعات کی پیش کش کی ہے ۔ یورینیم کی
افزودگی وہ عمل ہے جس کی مدد سے جوہری ہتھیار بنائے جاسکتے ہیں۔
الہام نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران مجوزہ پیکیج کے مشترکہ
نکات پر عالمی طاقتوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن یہ کہ یورینیم کی افزودگی پر
اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
ترغیبات کے پیکج پر ایران کا جواب جمعے کے روز برسلز میں
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویئر سولانا کو پیش کیا گیا تھا۔
ایران کے جوہری مذاکرات کار سعید جلالی نے جمعے کے روز
سولانا کو بتایا تھا کہ ان کے ملک نے اپنا جواب ایک تعمیری اور مثبت رویے اور ایک
مشترکہ بنیاد پر مرکوز کرکے تیار کیا ہے۔