انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ حال ہی میں دس مشتبہ
اسلامی عسکریت پسندوں کی گرفتاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کے گروہ
بھاگ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا کہ دہشت گردوں کی تحریک ابھی تک
کمزور نہیں پڑی ہے۔
حسن ویرجودا نے اتوار کے روز کوالالمپور میں ایک اسلامی
اقتصادی کانفرنس کے موقع پر الگ سے یہ بات کہی۔
ان کا یہ بیان گذشتہ ہفتے ایک امریکی اور آسٹریلیوی تربیت
یافتہ انسداد دہشت گردی کے اسکوارڈ کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے۔ عہدے داروں نے
اعلان کیا تھا کہ انہوں نے سماٹرا کے شہر پالم بان میں کارروائیوں کے دوران دس مشتبہ دہشت گروں کو
حراست میں لیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ افراد بوکی تنگی کے تفریحی قصبے میں ایک مغربی سیاحوں میں مقبول کیفے پر بم حملے کی
منصوبہ بندی کررہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس ہفتے کے شروع میں اس گھر سے جس
میں وہ افراد کرائے پر رہ رہے تھے، کم ازکم 22 بم ملے جن میں سے بہت سے استعمال کے
لیے تیار حالت میں تھے۔
میڈیا کی خبروں میں کہا گیا ہے کہ ان دس افراد کا تعلق
القاعدہ سے منسلک مقامی انتہا پسند نیٹ ورک جماع اسلامیہ سے تھا۔
ایک اہم مشتبہ فرد کا تعلق سنگاپور کے ایک شخص ماس لامت
کستاری سے ہے جس نے افغانستان سے تربیت حاصل کی تھی اور جس کے بارے میں خیال ہے کہ
اس نے اسامہ بن لادن سے ملاقات کی تھی۔