اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ کی سرحد گذرگاہوں کو ایک راکٹ حملے کی وجہ سے
گذشتہ جمعرات تک بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھول دیا ہے۔
ایک فوجی ترجمان پیٹر لرنر نے اتوار کے روز کہا کہ یہ سرحدی
گذرگاہیں جن میں صوفہ شامل ہے، اسرائیل میں سامان کی ترسیل اور طبی علاج کے لیے
لوگوں کو اسرائیل آنے کی اجازت دینے کے لیے کھولی گئی ہیں۔
تازہ ترین بندش اُس کے بعد ہوئی تھی جب اسرائیل نے غزہ کے
فلسطینی عسکریت پسندوں پر جنوبی اسرائیل میں ایک راکٹ فائر کرنے کا الزام عائد کیا
تھا۔
غزہ میں حماس کے لیڈروں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ راکٹ انھوں نے پھینکا تھا۔ اس واقعے میں
کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہواتھا۔
یہ 19 جون کے بعد سے غزہ کی سرحدی گذر گاہوں پر تیسری بندش
تھی۔اسی تاریخ کو دونوں فریقوں کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔