سوئٹزرلینڈ میں جنیوا جھیل کے قریب ایک وسیع و عریض میدان ہے جہاں کچھ عرصہ قبل تک گائیں گلے میں بندھی پیتل کی گھنٹیاں بجاتی، دھوپ میں اطمینان سے جگالی کرتی نظر آتی تھیں۔ لیکن اس شاداب چراگاہ کی سطح سے سینکڑوں فٹ نیچے کارکن اور انجینیئر بڑی تندہی کے ساتھ ایک ایسی مشین کے پرزے جوڑنے میں مصروف ہیں، جس کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ اس کی مدد سے کائنات کے عظیم ترین سربستہ رازوں پر سے پردہ اٹھایا جا سکے گا۔
ان میں سے ایک سوال بڑا بنیادی ہے۔ کائنات کس چیز سے بنی ہوئی ہے؟
قدیم یونانی فلسفیوں کا خیال تھا کہ کائنات چار عناصر سے مل کر بنی ہے،مٹی، پانی، آگ اور ہوا۔ پھر انیسویں صدی کے شروع میں ایٹم کا نظریہ پیش کیا گیا۔لفظ ایٹم کا مطلب ہے، ناقابلِ تقسیم۔ یعنی کسی چیز کو لے کر چاقو سے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جائیں تو آخر کار ایک ایسا ٹکڑا آئے گا جسے مزید تقسیم نہیں کیا جا سکے گا، وہی ایٹم کہلائے گا۔
تاہم بیسویں صدی کی ابتدا میں معلوم ہوا کہ ایٹم بھی ناقابلِ تقسیم نہیں ہے بلکہ یہ بذاتِ خود چھوٹے چھوٹے ذرات نیوٹران،پروٹان اور الیکٹران سے مل کر بنا ہے۔
پھر بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں یہ انکشاف ہوا کہ خود ایٹمی ذرات یعنی پروٹان اور نیوٹران بھی دوسرے چھوٹے ذرات سے مل کر تشکیل پاتے ہیں۔ گویا پیاز کی گنٹھی ہے کہ ایک چھلکا اتاریں تو اندر ایک اور چھلکا نظر آتا ہے۔
کیا یہ سلسلہ کبھی ختم بھی ہو گا اور کیا ہم کبھی کائنات کی حتمی ساخت کے بارے میں جان سکیں گے؟
اسی سوال کا جواب دینے کے لیے یہ منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے۔ 60 ممالک کی ساجھے داری سے تکمیل پانے والے اس منصوبے پر 20 برس لگے ہیں اور آٹھ ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ یورپ کے فزکس کے ادارے CERN کی زیرِ نگرانی تعمیر ہونے والے اس منصوبے کو لارج ہیڈران کولائڈر (LHC)کا نام دیا گیا ہے اور اس کا کام ایٹمی ذرات کو توڑنا ہے۔
لیکن انگریزی کا لفظ لارج، یعنی بڑا، اس تنصیب کے ساتھ انصاف نہیں کرتا۔ اس کے نام کے لیے تو عظیم الجثہ، دیو قامت، جیسا کوئی لفظ استعمال کیا جانا چاہیئے تھا۔ سوئٹزر لینڈ اور فرانس دونوں ملکوں کے اندر واقع اس ذرّہ شکن تنصیب کی زیرِ زمین سرنگ 27 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی مشینری اس قدر گنجلک اور پیچیدہ ہے دنیا میں کوئی اور تنصیب یا کارخانہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
آخر اس عظیم کھٹ راگ کا مقصد کیا ہے؟
فزکس یا طبیعات بنیادی سائنس ہے۔ مشہور سائنس دان ردر فورڈ نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ تمام سائنس یا تو فزکس ہے یا پھر ٹکٹ جمع کرنا! فزکس اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ کائنات کیسے وجود میں آئی، یہ کیسے کام کرتی ہے اور اس کا انجام کیا ہو گا۔
پچھلے سو برسوں میں فزکس نے بہت سے سوالات کے جواب دیے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ مادہ ایٹموں سے مل کر بنا ہے؛ ایٹم چھوٹے ذرات سے تشکیل پاتے ہیں؛ توانائی کیا ہے اور اس کی کتنی قسمیں ہیں، وغیرہ۔
لیکن اب بھی کئی بنیادی سوالات ایسے ہیں جن کا آج تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل پایا۔ مثال کے طور پر کیا تین جہتوں (دائیں بائیں، آگے پیچھے، اوپر نیچے) کے علاوہ بھی جہتیں موجود ہیں؟ وزن کی ماہیت کیا ہے؟ کیا ہماری کائنات اکیلی ہے یا ان گنت کائناتوں کا مجموعہ؟ وغیرہ۔
امید تھی کہ یہ تنصیب 2007ء میں کام شروع کر دے گی لیکن کئی حادثات کی وجہ سے اس کا افتتاح مؤخر ہوتا چلا گیا۔ اب توقع ہے کہ اس سال گرمیوں کے آخر میں اسے چالو کر دیا جائے گا۔
LHC کی 27 کلومیٹر طویل سرنگ میں انتہائی طاقت ور مقناطیس نصب ہیں، جو ایٹمی ذرات کو حرکت دینے اور ان کی رفتار میں اضافہ کرنے کا کام کریں گے۔
پوری رفتار حاصل کرنے کے بعد یہ ذرات ایک سیکنڈ میں سرنگ کے دس ہزار چکر لگائیں گے اور جب ان کی رفتار روشنی کی رفتار کے 99.999999 فی صد پر پہنچ جائے گی تو مخالف سمت سے آنے والے ذرات کو آپس میں ٹکرایا جائے گا، جس سے زبردست جھماکا ہو گا اور ذرات پاش پاش ہو کر بکھر جائیں گے۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس عمل کے مشاہدے سے انھیں مادے کی ساخت کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے شرارتی بچے یہ دیکھنے کے لیے کہ کھلونے کس چیز سے بنے ہوئے ہیں، انھیں توڑ کر ان کا انجر پنجر الگ کر دیتے ہیں۔
لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھیں خدشہ ہے کہ یہ جھماکا کہیں دنیا ہی کو نہ لے ڈوبے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس جھماکے سے ایک ننھا منا بلیک ہول وجود میں آ سکتا ہے، اور چوں کہ بلیک ہو ل کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ آس پاس کے مادے کو اپنی طرف کھینچتا ہے، یہ ممکن ہے کہ ایسا بلیک ہول چند لمحوں کے اندر اندر پوری دنیا کو ہڑپ کر لے۔
لیکن LHC کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ بلیک ہول بننے کا کوئی امکان نہیں ہے اور اس سے دنیا کو خطرہ لاحق نہیں ہے۔