 |
ایل کے
ایڈوانی |
بھارتیہ جنتہ پارٹی کے رہنما، ایل کے ایڈوانی نے دعویٰ کرتے
ہوئے کہا ہے مرکز کی من موہن سنگھ حکومت اقلیت میں آگئی ہے، اِس لیے پارلیمنٹ کا
خصوصی اجلاس بلایا جائے اور حکمراں اتحاد اعتماد کا ووٹ حاصل کرے۔
ہفتے کے روز دہلی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے
ہوئے، ایڈوانی نے کہا کہ بھارتی حکمراں اتحاد کے دو بنیادی ساجھے داروں کے مابین
اختلافات نے حکومت کو 18ماہ سے مفلوج کر رکھا ہے۔
اُنہوں نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت سماج وادی
پارٹی کے ساتھ خرید و فروخت کررہی ہے، اور یہ کہ کانگریس اور سماج وادی دونوں کا
اعتبار ختم ہو چکا ہے اور حکومت ایک تھیٹر بن گئی ہے۔
اُدھر کانگریس نے ایڈوانی کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور
کہا ہے کہ بائیں بازو نے ابھی تک اپنی حمایت واپس نہیں لی ہے۔لہٰذا، حکومت کو پوری
اکثریت حاصل ہے۔
کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ دراصل ایل کے ایڈوانی وزیرِ
اعظم بننے کے لیے بے تاب ہیں اور وہ خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں۔
بائیں بازو کی بعض جماعتوں نے بھی ایڈوانی کا مطالبہ مسترد
کر دیا ہے جب کہ سماج وادی پارٹی کے لیڈر امر سنگھ کے بقول، ملک کے لیے فرقہ پرستی بہت بڑا خطرہ ہے، اوریہ
کہ ایڈوانی جارج بش سے زیادہ خطرناک ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اُن کی پارٹی حکومت گرانے میں شریک
نہیں ہوگی اور سیکولر اتحاد کے حق میں ووٹ دے گی۔
دریں اثنا، تیسرے محاذ کے ایک لیڈر اوم پرکاش نے سماج وادی
پارٹی کے موجودہ موقف کی مذمت کرتے ہوئے اِس میں انتشار کی طرف اشارہ کیا ہے۔