 |
لال مسجد میں ہزاروں لوگ ایک سال پہلے ہونے والی فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں
|
عینی شاہدین اورپاکستانی سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں لال
مسجد کے قریب خود کش بم حملہ ہوا ہے جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور کم از کم 22
زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک اورزخمی ہونے والوں میں اکثر پولیس کے اہل کار ہیں۔
یہ بم دھماکہ اس وقت ہوا جب لال مسجد میں فوجی کارروائی
کے تقریباً ایک سال مکمل ہونے پر آج اتوار کے روز اس مسجد سے وابستہ ہزاروں طلبہ
اور مذہبی رہنماؤں کا ایک بڑا اجتماع اختتام پذیرہوا تھا۔
سیکورٹی حکام نے اس موقعے پر سخت حفاظتی اقدامات اختیار
کر رکھی تھے۔ سڑکوں کو عام آمد ورفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے سارے
علاقے کو سیل کر دیا ہے۔ ابھی تک کسی گروپ یا تنظیم نے اس کی ذمے داری تسلیم نہیں کی۔
دھماکے سے قبل اس اجتماع میں مقررین نے مطالبہ کیا تھا
کہ مسمار کیے جانے والے طالبات کے مدرسے جامعہ حفظہ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس موقعے پر صدر مشرف کے خلاف نعرے
لگائے اور انہیں اس کارروائی کا ذمّہ دار ٹہراتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی
کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ لال مسجد آپریشن امریکہ کے کہنے پر
کیا گیا تھا۔
صدر مشرف نے حملے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
خیال رہے کہ تقریباً ایک ہفتے تک محاصرہ جاری رکھنے کے بعد 10 جولائی کو لال مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے کے خلاف فوجی
کمانڈوز نے کارروائی کی تھی، جس میں مسجد کے نائب خطیب عبد الرشید سمیت ایک سو سے
زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ جبکہ ان کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کو مسجد سے
فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔
آج اتوار کو ہونے والے اس اجلاس میں مولانا عبدالعزیز کی
رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی میں صدر مشرف نے انتباہ کیا
تھا کہ اگر نئی حکومت نے انتہا پسندی کو نہ روکا تو ان کے بقول پاکستان میں جگہ جگہ لال مسجد جیسی صورتِ حال
پیدا ہو سکتی ہے۔