افغان صدر حامد کرزئی نے مشرقی افغانستان میں امریکی کی
زیرِ قیادت اتحادی فضائی حملے میں مبینہ طور پر جاں بحق ہونے والے 15 شہریوں کی ہلاکت کی تحقیق کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کی سرحد کے قریب نورستان صوبے کے ایک دور افتادہ
ضلعے میں جمعے کے دن ہونے والے فضائی حملے کے بارے میں کل ہفتہ کے روز اتحادی
افواج نے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں شہری ہلاکتوں کی تردید کی گئی تھی۔
دریں اثنا افغان حکام کا کہنا ہے کہ آج اتوار کے دن ننگر
ہار صوبے پر امریکہ کے زیرِ اتحاد ہونے والے فضائی حملے میں 22 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بنننے والے پاکستان کی سرحد کے قریب ایک
شادی کی تقریب میں شریک تھے۔ ایک مقامی افسر شکور شنواری کے مطابق ہلاک شدگان میں دس خواتین اوردس بچّے
شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے اس سال غیر ملکی افواج اور
طالبان کے درمیان جاری لڑائیوں کی زد میں آنے والے شہریوں کی ہلاکت کی تعداد
تقریباً 700 ہو چکی ہے۔