پاکستان میں
نئی حکومت کے قیام کے بعد کچھ عرصے تک امن و امان کی صورت حال بہتر رہی اور خودکش
بم دھماکے نہیں ہوئے۔ اس دوران حکومت قبائلی علاقوں اور سوات میں اسلام پسند
گروپوں سے مذاکرات میں مصروف رہی اور ان میں پیش رفت کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔
مگر حال ہی میں خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام اور دوسری جنگ جو مذہبی تنظیموں کے
خلاف حکومتی کارروائی اور پھر اسلام آباد کی ایک پررونق مارکیٹ میں خودکش بم
دھماکے نے جس میں بیسوں بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں ہیں، کئی سوالات کو جنم دے دیا
ہے۔
پاکستان میں
امن و امان کی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے معروف امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی
ٹیوٹ کے اسکالر ڈاکٹر فاروق حسنات نے خبروں سے آگے سے کہا کہ اگر حالات کا موازنہ
پچھلے سال سے کیا جائے تو صورت حال میں بہتری دکھائی دیتی ہے۔ اس سال اب تک دو
خودکش بم دھماکے ہوئے ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب
کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحدمیں اے این پی کی حکومت مذہی تنظمیوں کے ساتھ بات چیت
کرکے مسئلے کا حل چاہتی ہے اور وہ اس سمت آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ اپنے صوبے کے افراد
اور تنظیموں کو جانتی ہے اورمسائل حل کرنے سے متعلق ان کے جذبے کے پیش نظر کہا
جاسکتا ہے کہ وہ اس کا کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائے گی۔
ڈاکٹر فاروق
حسنات کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسلام آباد کے خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری کسی نے
قبول نہیں کی ہے لیکن یہ لال مسجد کے سانحے کی برسی کے موقع پر ہوا ہے ۔ چنانچہ یہ
باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ وہ ان لوگوں کی کارروائی ہے جو حکومت کو اپنی برہمی کا پیغام
دینا چاہتے ہیں۔