امریکہ کی
مشرقی ریاست پینسلوانیا میں واقع لانگ وڈ
گارڈنز کو کئی لوگوں نے نباتاتی جنت کا
نام دیا ہے جسے دیکھنے کے لیے ہر سال حسن
فطرت سے دلچسپی رکھنے والے لاکھوں شائقین کھنچے چلے آتے ہیں ۔ اس پارک میں پانچ ہزار پانچ سو اقسام کے مخلتف پودے رکھے
گئے ہیں۔
لانگ ووڈ
گارڈنز کے دو بڑے گلاس ہاؤسز میں ہزاروں
رنگا رنگ اور خوشبو دار پھول موجود ہیں۔ ان پھولوں کو انتہائی احتیاط سے ترتیب دیا جاتا ہے
اور اکثر تبدیل کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ ایک مستقل طور پر رنگ بدلتا ہو اباغ ہے۔ ایک گلاس ہاؤس کے، جسے حال ہی میں جدید بنایا
گیا ہے، مشرقی حصے میں رکھے گئے وسطی اورنیم
گرم علاقوں کے پودوں پر پھول آنے سے اس کی رونق میں اضافہ ہوا ہے۔ مغربی حصے میں
ٹراپیکل جنگل اور صحرائی علاقوں جیسےدوسرے
حصوں کے پودے رکھے گئے ہیں۔ یہاں موجود پودوں اور پھولوں کی ایک بڑی ورائٹی کے باجود
سٹاف ہمیشہ مزید کی تلاش میں رہتا ہے۔
جم اسٹین
لاونگ ووڈ گارڈنز کے ڈیزائینرز میں
سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جو اگاتے
ہیں اس کا فیصلہ تقریباً ایک سال پہلے ہوجاتا ہے۔ ہم نئے پودوں کی تلاش میں دنیا
کو چھان ڈالتے ہیں اور پھر ان کو لا کر نمائش کے لیے رکھتے ہیں۔
سٹاف کی سخت
محنت لانگ ووڈگارڈنز کے بانی صنعت کار پیئر سیموئیل ڈو پانٹ کے خواب کی تعبیر ہے۔
انہوں نے 1906 میں ایک فارم خریدا جسے
درختوں کی حفاظت کے لیے لانگ ووڈ گارڈنز میں تبدیل کردیا گیا۔ دنیا بھر کا سفر
کرنے والے ڈیو پانٹ نے اپنی جائیداد میں بتدریج اضافہ کیا اور اپنے بیرونی دوروں سے یہاں پودے اور پھول لا کر ان کی تعداد اور اقسام میں اضافہ کیا۔ ان کی وفات کے بعد لانگ ووڈ فاونڈیشن
نے باغات کا انتظام سنبھال لیا جو آج بھی
ڈیو پانٹ کے خواب کو پورا کر ہی ہے۔ لانگ ووڈ گارڈنز ایک نباتاتی شو کیس بن چکا ہے جو کہ اپنے تعلیمی پروگرامز کے ذریعے امریکی باغبانی کے فن کی آبیاری کر رہا ہے۔
پیٹریشیا ایونز
کا کہنا ہے کہ لانگ ووڈز کئی طرح کے تعلیمی پروگرامز مہیا کرنے کے عہد پر پوری سنجیدگی سے قائم ہے۔ ہائی سکول اور کالج کے طلبہ کے لیے تربیتی پروگرامز سے لے کر مستقبل کے باغبانوں کی تربیت کے لیے
دو سالہ پرفیشنل پروگرام تک سب کچھ۔ حتیٰ
کہ یونیورسٹی آف ڈیلوئیرکے ساتھ ہمارا ایک گریجویٹ پروگرام بھی ہے جو کہ حقیقتاً
مستقبل کے باغبان پیدا کر رہا ہے۔