آج پیر کے روزکراچی کے ضلع وسطی اور غربی میں یکے بعد دیگرے
ہونے والے دھماکوں میں دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بچے بھی شامل
ہیں۔
انسپکٹر جنرل پولیس بابر خٹک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ
دھماکے کم قوت کے تھے،جِن میں دھماکہ خیز مواد ڈیڑھ تا دو سو گرام تھا۔ انھوں نے
کہا ہے کہ ان دھماکوں میں پٹھان آبادی والے علاقوں کو ہدف بنایا گیا۔
اُنہوں نے چھ دھماکوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ دو درجن سے
زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جِن علاقوں میں دھماکے ہوئے اُن میں بنارس چوک، علی گڑھ
کالونی، پاک کالونی، قصبہ کالونی، شاہراہِ نورجہاں اور اورنگی ٹاؤن کے علاقے شامل
ہیں۔
بابر خٹک نے کہا کہ دھماکوں کا مقصد شہر میں خوف و ہراس
پھیلانا ہو سکتا ہے۔ تاہم اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیونکہ پٹھان آبادی والے
علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اِس کا مقصد شہر میں نسلی کشیدگی پیدا کرنا بھی
ممکن ہے۔
اُدھر جِن علاقوں میں دھماکے ہوئے لوگوں میں سخت اشتعال
پایا جاتا ہے۔سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جمع ہیں، پتھراؤ اور ہوائی فائرنگ کی
اطلاعات بھی ملی ہیں۔شہر میں صورتِ حال سخت کشیدہ ہے۔
حکام نے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری اُن علاقوں میں
تعینات کردی ہے جہاں دھماکے ہوئے اور گشت شروع کر دیا گیا ہے۔
صورتِ حال کے نتیجے میں شہر بھرمیں خوف و ہراس پایا
جاتا ہے، بازار اور کاروباری مراکز بند ہوگئے ہیں اور سڑکوں پر سناٹا ہے۔دھماکوں
کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔