![[insert caption here] [insert caption here]](/urdu/images/BER-Unemployment-line_tv_04.jpg) |
| امریکی محکمہٴ محنت میں لمبی قطاریں |
امریکی محکمہٴ
محنت کا کہنا ہے کہ جون کے مہینے میں امریکی معیشت میں 62ہزار آسامیوں کی کمی واقع
ہوئی۔ حالانکہ ملکی بیروزگاری کے اعداد و شمار ایک ہی سطح پر رہے، لیکن روزگار کے
بارے میں جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جون چھٹا مہینا تھا جِس میں
تواتر کے ساتھ آسامیوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ اِِس کا مطلب یہ ہوا کہ 2008کے
پہلے چھ ماہ میں تقریباً پانچ لاکھ روزگار کے مواقع میں کمی واقع ہوئی۔
اتنی بڑی
تعداد میں نوکریاں ختم ہونے کے باعث بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے
اور محکمہ محنت کے مطابق جون کے مہینے میں اتنی نئی ملازمتیں فراہم نہیں کی گئیں
جتنی کہ ختم کی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ اثرتعمیرات اور پیداوار کے شعبوں میں ہوا۔ بے
روزگاروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مجموعی
صورت حال پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
امریکی وزیر
مالیات ہینری پالسن کا کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں معیشت کو مضبوط بنانے کی راہ میں
رکاوٹ کاسبب ہیں اور اندیشہ ہے کہ معیشت میں یہ سست روی مزید چلے گی۔
کیلی فورنیا
میں امریکہ کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں بے روزگاری کی شرح زیادہ اور روزگار
فراہم کرنے والے دفتروں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جبکہ ان دفتر میں
فون کرنے والوں کو فون پر یہ پیغام سننے کو ملتا ہے کہ انہیں اپنی باری کے لیے
انتظار کرنا پڑے گا۔
اس قسم کی
تاخیر کے باعث بے روزگاری الاؤنس ملنے میں بھی کافی دیر لگ جاتی ہے اور جب نوکری
بھی نہ ہواور بے روزگاری الاؤنس بھی نہ مل رہا ہو تو ایسے میں بعض لوگوں کے لیے
زندگی بہت کھٹن ہوجاتی ہے۔
ملازمتوں میں
کمی کے باوجود حکومت کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی شرح پانچ اعشاریہ پانچ فی صد پر
مستحکم ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح اس لیے مستحکم رہتی ہے کیونکہ جب
لوگوں کو بے روزگاری الاؤنس ملنا بند ہوجاتا ہے تو ان کا شمار بے روزگاروں میں نہیں
کیا جاتا۔
حکومت کا
کہنا ہے کہ وہ صورت حال میں بہتری لانے کے لیے کام کررہی ہے مگر حکومت کی جانب سے
ایسے پرامید اعلانات کے باوجود جون کے مہینے میں نوکریوں میں بڑی تعداد میں کمی پر
بعض حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔