بنگلہ دیشی بچے امدادی خوارک کے تھیلے لے کر جا رہے ہیں
بالی وڈ میں ایسے کئی اداکار ہیں جو سماج کے فلاح و بہبود کے لیے
کام کرتے ہیں۔ سماجی خدمات
کی بات کریں توشبانہ اعظمی
کے بعد اگر کسی فلمی ستارے کانام ذہن میں آتا ہے تو وہ ہیں راہول بوس۔
راہول بوس پریشان ہیں کہ حالیہ غذائی بحران کی وجہ سے دنیا کے تقریباً دس کروڑ لوگ بھوک سے متاثر
ہورہے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے ہالی وڈ کے فلمی
ستاروں کے ساتھ مل کر ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی ایٹ کے سیاسی
رہنماؤں کو درخواست بھیجی ہے
کی وہ عالمی سطح پر پھیلی غذائی قلت کو قابو میں کرنے کے لیے ہنگامی قدم
اٹھائیں ۔
واضح رہے کہ ٹوکیو شہر
میں جی ایٹ ممالک کا اہم اجلاس پیر کے روز سے شروع ہوگیا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں جب راہول سماجی کاموں میں دلچسپی
دکھا رہے ہیں ۔ وہ ممبئی اور
بھارت کی کئی غیرسر کاری تنظیموں سے وابستہ ہیں ۔ اپنی فلموں سے ذیادہ راہول سماجی
کاموں کی بدولت اخباروں کی سرخیوں میں بنے رہتے ہیں ۔ پھر چاہے وہ سونامی
سے متاثرہ لوگوں کو دوبارہ بسانے کی بات ہو یا پھر ممبئی اور گجرات کے فساد متاثرہ لوگوں کے حق کی لڑائی ، راہول بوس نے ہمیشہ مظلوم اور پسماندہ
لوگوں کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
راہول برطانوی ایڈ ایجنسی آکسفم کے سفیر بھی
ہیں ۔
راہول نے اسکار لیٹ جانسن، کالین فرتھ اور کرسٹین ڈیوس جیسی معروف عالمی ہستیوں کے ساتھ مل کر جی ایٹ
کے لیڈروں سے گزارش کی ہے کہ وہ
ترقی پذیر
غریب ملکوں میں غذائی بحران سے نپٹنے
کے لیے فوری طور پر قدم اٹھائیں۔
راہول بوس کے فلمی گراف پر نظر ڈالیں تو کمرشل فلموں سے
ذیادہ انھوں نے ہنگلش (ہندی اور انگریزی کی
کھچڑی ) فلمیں کی ھیں ۔ ایک طرف' انگلش اگست'،
'مسٹر اینڈ مسز ائیر'اور 'ایوری بڈی سیز آئی
ایم فائن '
جیسی فلموں میں اُن کی لاجواب اداکاری کو فلم نقادوں نے
سراہا تو دوسری طرف 'جھنکار بیٹس'اور
'چمیلی'
جیسی کمرشل
فلموں نےانہیں فلم بینوں کے درمیان انتہائی مقبول بنا دیا ۔ اس سال راہول
کی تین فلمیں 'ممبئی
چکاچک'،
'مان گئے مغل اعظم'
اور 'اگلی اور پگلی '
ریلیز کے لیے تیار ہیں۔