![[insert caption here] [insert caption here]](/urdu/images/courtyard.jpg) |
جنات تجری من تحتہا الانہار ۔۔۔۔ جنت جس میں محلات کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی
|
کہا جاتا ہے کہ شداد بادشاہ نے
جنت بنائی تھی لیکن وہ اسے دیکھنا نصیب نہیں ہوئی کیوں کہ وہ جوں ہی اس کا افتتاح
کرنے کے لیے گھوڑے سے اترا، وہیں عزرائیل نے اس کی روح قبض کر ڈالی۔ شداد کی جنت کے کوئی آثار موجود نہیں ہیں، اس لیے اس کے
بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن سپین کے جنوب مشرقی شہر غرناطہ میں ایک ایسی
جنتِ ارضی موجود ہے جسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔
آج سے آٹھ سو برس قبل نصری خاندان کے بادشاہوں نے قرآن میں
جنت کی منظر کشی سے متاثر ہو کر یہ محل تعمیر کروایا تھا، جسے مکمل ہونے میں صدیاں
لگ گئیں۔
روایت مشہور ہے کہ ایک جپسی عورت نے غرناطہ میں ایک اندھے فقیر کےبارے میں کہا تھا کہ اے
لوگو، اسے زیادہ بھیک دو، کیوں کہ اُس شخص سے زیادہ بدنصیب کون ہو گا جو غرناطہ
میں ہو اوراندھا ہو۔
غرناطہ
ہی میں وہ محل ہے جسے دنیا الحمرا کہتی ہے۔ الحمرا کے درودیوار کے حسن کا بیان
دنیا کی کسی زبان میں ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے ہم نے یہ سلائیڈ شو بنایا ہے۔ دیکھیئے اور لطف اندوز ہو جیئے۔
Created with Admarket's flickrSLiDR.