عراق میں امریکی فوج نے کہا ہے
کہ ملک کے شمالی حصے میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنےسے چار ٹھیکےدار ہلاک اور آٹھ
دوسرے افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے
کہ پیر کے روز موصل شہر کے قریب ٹھیکےداروں کو لے جانے والا ایک قافلہ سڑک کنارے
نصب بم سے ٹکرا گیا۔ بیان میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی قومیت کے بارے میں کچھ
نہیں بتایاگیا۔
ایک اور خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس
نے کہا ہے کہ عراق کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا مقصدامریکی فوجیوں کے انخلا پر حتمی تاریخ طے کرنا نہیں ہے، باوجود اس کے
کہ عراقی حکومت کی جانب سے ایسی تجویز پیش
کی گئی ہے۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی
نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی کے طویل مدتی معاہدے کا متبادل دیکھ رہے ہیں جو اس سال کے آخر میں اقوام ِمتحدہ کی طرف سے دیے
گئے اختیار کے ختم ہونے کےبعد ملک میں
امریکی فوجیوں کی موجودگی کی وضاحت پیش کرسکیں۔دوسری طرف بش انتظامیہ کسی نظام
الاوقات کے خلاف ہے۔
متحدہ عرب امارات کے دورے کے
دوران پیر کے روز وزیر اعظم مالکی نے کہا کہ ان کی حکومت افہام و تفہیم کی ایک یادداشت پر غور کررہی ہے جس کے ذریعے عراق سے غیر ملکی
فوجیوں کی واپسی کا نظام الاوقات شامل ہوسکے۔