امریکہ کے دو سابق وزارائے خارجہ قانون سازوں کو یہ بتائیں
گے کہ امریکہ جس طریقے سے جنگ کررہا ہے
اسے تبدیل کیا جانا چاہئیے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگلی مرتبہ جب
امریکہ کسی جنگ کا منصوبہ تیار کرے توقانونی طورپر صدر سے یہ تقاضا کیا جانا
چاہیئے کہ وہ کانگریس سے مشاورت کرے اور یہ کہ کانگریس سے تقاضا کیا جانا چاہئیے
کہ وہ 30 دن کے اندر اندر جنگ کی منظوری یا نا منظوری کے بارے میں ووٹنگ کرائے۔
ری پبلیکن صدر جارج ایچ ڈبلیو
بش کے تحت خدمات انجام دینےو الے جیمز بیکر اور ڈیموکریٹک بل کلنٹن کے دور
میں خدمات انجام دینے والے وارن کرسٹو فر
نے نیشنل وار پاور کمیشن کے اس ایک سالہ مطالعاتی جائزے کی قیادت کی۔ انہوں نے
منگل کےر وز اپنے منصوبے کا خاکہ نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون میں شائع کرایا۔
نیشنل وار پاور کمیشن کی تجویز
کا مقصد 1973ءکی جنگ کے اختیار کی قرار داد کو بہتر بنانا ہے جسے ویت نام کی جنگ
کے ردعمل میں منظور کیا گیا تھا۔بیکر اور کرسٹوفر دونوں نے یہ دلیل پیش کی کہ یہ
انتہائی غیر مؤثر اور غیر آئینی ہے۔