آٹھ ترقی پذیر اسلامی ملکوں کے
سربراہی اجلاس کے راہنماؤں نے کہا ہے کہ خوراک اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے
خوفناک مضمرات ہوسکتے ہیں۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم عبداللہ
احمد بدوای نے منگل کے روز کوالالمپور میں اس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے
کہا کہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے، جو 2000ءسے اب تک 75 فی صد بڑھ چکی ہیں،
عالمی معیشت کو خطرہ لاحق ہے اور اس کے نتیجے میں اندرونِ ملک سیاسی بدامنی پیدا
ہوسکتی ہے۔
وزیر اعظم عبداللہ بداوی نے
شرکا ممالک پر زور دیا کہ وہ خوراک کی پیداوار میں اضافہ کریں اور کاشت کے رقبے کو
صرف ان فصلوں کے لیے وقف نہ کریں جن سے
نامیاتی ایندھن تیار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے وسائل کی حفاظت کے
جنون نے عالمی سطح پر خوراک قلت پیدا کی
ہے۔
انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بمبانگ یودو یونو نے اپنے ہم
منصبوں کو خبردار کیا کہ اگر ان سب نے تیل اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر فوری اقدام نہ کیا تو انہیں زبردست مسائل کا
سامنا ہوگا۔
اس سربراہی اجلاس میں پاکستان،
ایران، بنگلہ دیش، مصر، نائجیریااور ترکی کے راہنما بھی شامل ہیں۔ اس اجلاس کا
انعقادشمالی جاپان میں دنیا کے آٹھ سب سے ترقی یافتہ ملکوں کے راہنماؤں کے سربراہی
اجلاس کے عین موقع پر طے کیا گیا تھا۔
اس سربراہی اجلاس کے موقع پر
الگ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس بات کی تردید
کی ان کا ملک افغان دارالحکومت کابل میں
بھارتی سفارت خانے میں پیر کے روز ہونے والے اس بم دھماکے میں ملوث تھا جس میں 41
افراد ہلاک ہوئے تھے۔