سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار
مرزا نے کہا کہ پیر کی شام کو کراچی میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں کی
تحقیات کے لیے ڈی آئی جی کی سربراہی میں
کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور
توقع ہے کہ جلد ہی اصل ملزمان گرفتار کر لیے جائیں گے۔
آج منگل کی صبح پولیس ہیڈ
کواٹرز میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ان دھماکوں میں 44
افراد زخمی ہو گئے ہیں، تاہم کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ ان دھماکوں میں استعمال
ہونے والا مواد اور ٹیکنالوجی خاصی کمزور تھی اور اسی لیے ان سے زیادہ نقصان نہیں
ہوا۔
صوبائی وزیر داخلہ ان دھماکوں
پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں
گے۔
اس سے قبل سندھ کے انسپکٹر جنرل
پولیس نے کہا تھا کہ دھماکے صوبے میں خوف و ہراس پھیلانے اور لسانی کشیدگی پیدا
کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔
کل شام دھماکوں کے بعد شہر میں خوف ہراس پھیل گیا
تھا، تاہم صبح سے زندگی بتدریج معمول پر آتی جارہی ہے۔ جن مقامات پر دھماکے ہوئے
تھے وہاں کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔