 |
| شینن ہون |
بلائنڈ میلن
کا شمار امریکہ کے معروف بینڈز میں ہوتا ہےاور اس بینڈ کے کئی ہٹ نغمے ہیں۔ 1995 میں
بینڈ کے لیڈ سنگر شینن ہون کے انتقال سے بینڈ کو بہت نقصان پہنچاتھا مگر اب ٹریویز
ویرن کی شمولیت کے بعد بینڈ دو دوبارہ بلندی کی جانب سفر کررہا ہے۔
بلائنڈ میلن
بینڈ نے موسیقی کی صنعت میں ترقی کی حیران کن منازل طے کی ہیں۔ یہ بینڈ 1989 میں
قائم ہواتھا اور صرف چار سال کے عرصے میں اس نے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے اور
کئی مشہور گانے ریکارڈ کیے۔ مگر بینڈ کے لیڈ سنگر شینن ہون کے انتقال سے گویا سب
کچھ ختم ہوگیا۔
بینڈ کے ایک
رکن کرس تھارن کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو موسیقار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب آپ جوان
ہوتے ہیں تو آپ کا ایک خواب ہوتا ہے اور میرا خیال ہے ہم سب کے خواب ہوتے ہیں۔ اور
پھر جب آپ اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں اور
وہ آپ سے چھین لیا جاتا ہے، جب آپ جوان ہوں تو یہ بہت پریشان کن
ہوتا ہے۔
بینڈ کے ساتھی
کرس تھارن اور بریڈ سمتھ دوسرے آرٹسٹوں کو سامنے لارہے تھے اور انہوں نے ویرن کے
ساتھ بھی کام شروع کیا۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ ویرن ایک ایسا شخص ہے جو ان کے گروپ
کا ماضی واپس لاسکتا ہے۔
بینڈ کے لیڈ
سنگر ٹریویز ویرن کا کہنا تھا کہ آپ کو پتہ ہے جب ہم نے ابتدا میں یہ کام شروع کیا،
کرس اور بریڈ مجھے ایک ریکارڈ کے ایک معاہدہےمیں شامل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ہم نے مل کر کچھ نغمے کیے اور آپ کو پتہ ہے کہ یہ
بالکل قدرتی تھا۔
ایک سہ پہر ایک
باربی کیو پر، انہوں نے ویرن سے پوچھا کہ آیا وہ بینڈ کی تشکیل نو میں دلچسپی
رکھتے ہیں۔اس سوال نے انہیں بہت حیران کردیا۔ آپ کو پتہ ہے جس وقت میں جانے لگا تو
انہوں نے کہا کہ ارے بیٹھو۔ میں یہ سمجھا کہ شاید مجھے کام سے فارغ کیا جارہا ہے۔
وہ بڑی تشویش کا لمحہ تھا۔ انہوں نے مجھے بیٹھا لیا اور کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے
کہ بلائنڈ میلن کو واپس لایا جائے اور میرا یہ حال تھا کہ مجھے یقین نہیں آرہاتھا۔
بلائنڈ میلن
بینڈ اب ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے مگر ٹریوز کبھی کبھی ان لمحوں کو یاد کرتے ہیں جب وہ صف اول کے سنگل
گلوکار تھے اور انہوں نے رولنگ اسٹونز کےساتھ دورے کیے تھے۔
اس دنوں بینڈ
اپنی نئی سی ڈی، فار مائی فرینڈز، کے تعارف کے لیے دورے کررہا ہے۔ اپنے شکاگو کے
دورے میں ہون کی گیارہ سالہ بیٹی نے بھی بینڈ
کے ساتھ اپنے والد کا ایک نغمہ گایا تھا جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔