 |
کیمونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریتری پرکاش کرات بھارتی وزیرِ خارجہ پرنب مکرجی کے ساتھ (فائیل فوٹو)
|
متنازعہ بھارت امریکہ جوہری معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے
ہوئے بایئں بازو کی کیمونسٹ جماعتوں نے آخر کار آج منگل کے روز متحدہ ترقی پسند
اتحاد یعنی UPA کی مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔
نئی دہلی میں لیفٹ کوارڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کے بعد
سی۔پی۔آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے
ہوئے کہا کہ کیمونسٹ جماعتیں کل بدھ کے دن بھارتی صدر پرتیبھا پاٹل سے مل کر انہیں
اس کے بارے میں تحریرطور پر مطلع کر دیں گی۔
کرات نے دعویٰ کیا ہے کہ کیمونسٹ جماعتوں نے اب یہ محسوس کر
لیا ہے کہ حکومت سے علیحدہ ہونے کا وقت آگیا ہے، کیوں کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ
نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی
توانئی ایجنسی (IAEA) کے پاس جایئں گے۔
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جی۔ایٹ کانفرنس میں شرکت کے لیے
جاپان جاتے ہوئے جہاز میں نامہ نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے اس کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیمونسٹ پارٹیوں کی حمایت ختم ہو جانے سے ان کی حکومت کے
استحکام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
واضح رہے کہ کانگریس کی ایوانِ زیریں کی 543نشستوں میں سے حکمران جماعت کے پاس اب 226 نشستیں باقی رہ گئی ہیں۔ اور اس طرح حکومت کو اب درکار
اکثریت حاصل نہیں رہی ہے۔
دوسری طرف حکمران جماعت نے ملائم سنگھ کی سماج وادی وادی
پارٹی سے معاہدہ کر لیا ہے۔ ملائم سنگھ نے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کی
حمایت کریں گے۔ اور اس طرح حکومت کے بچ جانے کا امکان باقی ہے۔کیوں کہ انہیں سماج
وادی پارٹی کے 39 اراکین کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔
 |
| Indian Foreign Minister Pranab Mukherjee (l) looks on as Communist Party of India leaders Prakash Karat, (r) leave after the meeting on the Indo - U.S. nuclear deal in New Delhi, 17 Mar 2008 |