 |
یاسمین حفیظ
|
واشنگٹن میں ہر سال امریکہ کے سب سے ذہین اور ہونہار
طالب عملوں کو صدراتی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں امریکی
صدر انعام حاصل کرنے والوں سے ملتے ہیں اور انہیں
خود ایوارڈ دیتے ہیں۔
صدارتی ایوارڈ
حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ طالب علم نے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر
نصابی سرگرمیوں میں بھی اعلیٰ مہارت کا مظاہرہ کیا ہو۔ 2008 کے صدارتی ایوارڈ امریکی اسکولوں میں
پڑھنے والے30 لاکھ بچوں میں سے صرف 139 طالب علموں نے حاصل کیے۔
انعام حاصل
کرنے والوں میں ایک پاکستانی طالبہ یاسمین حفیظ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس ایوارڈ
کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ 1964 میں شروع کیا گیاتھا۔ اس ایوارڈ کے ساتھ کوئی وظیفہ یا مالی امداد تو
شامل نہیں ہوتی مگر اس طالب علم کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں کئی سہولتیں پیدا
ہوجاتی ہیں۔
ایوارڈ حاصل
کرنے والے بچوں کا انتخاب ایک کمیٹی کرتی ہے۔
امریکہ کی ہر ریاست سے کم ازکم ایک طالب علم اور ایک طالبہ اس ایوارڈ کے لیے
نامزد کی جاتی ہے اور پھر کمیٹی ان میں سے انتخاب عمل میں لاتی ہے۔
یاسمین ایک
ہونہار طالبہ ہی نہیں بلکہ ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں۔ انہوں نے امریکیوں کو مسلمانوں کی تہذیب و
ثقافت اور مذہی روایات سے متعارف کرانے کے لیے ایک کتاب لکھی ہے جس کے چینی ،
فرانسیسی اور ڈچ زبانوں میں ترجمے ہورہے ہیں۔