بہت سے امریکیوں
کی طرح مارکو کپایاچی اور ان کی اہلیہ جوانا اور تین بچوں نے امریکہ میں جائیداد کی
قیمتوں میں کچھ عرصہ قبل ہونے والے اضافے کا فائدہ اٹھایا تھا۔ تین سال پہلے انہوں نے واشنگٹن ڈی سی کے مضافات
میں اپنا ٹاؤن ہاؤس بہت زیادہ منافع پر بیچا تھا۔ منافع سے انہوں نے شہر کے جنوب میں تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر کئی ایکٹروں
پر بنا ہوا پانچ کمروں کا ایک مکان خریدا۔
مارکو کہتے ہیں
کہ اپنی پوری گھریلو زندگی میں ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ منقتل ہوتے رہے ہیں۔ کیونکہ حالات بہتر ہورہے تھے اور ملازمت بہتر سے بہتر مل رہی تھی۔ ہم ایک کمرے کے اپارٹمنٹ سے دو کمروں کے
اپارٹمنٹ میں اورپھر ایک چھوٹے ٹاؤن ہاؤس میں، جس کے بعد ایک بڑے ٹاؤن ہاؤس میں
اوراب ایک بڑے سنگل فیملی مکان میں آئے ہیں۔
مارکو ایک
کمپیوٹر انجینئر ہیں جو پرو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی اہلیہ جوانا کا تعلق ایل سیلواڈور سے ہے۔ وہ گھر میں رہ کر اپنے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال
کرتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ایک محفوظ
اور پر سکون علاقے میں بنا ایک بڑا گھر خرید کر گویا امریکی زندگی کا ایک خواب
پورا کررہےتھے۔ لیکن جب مکانوں کی قیمتوں
میں کمی آئی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو دوسرے بہت سے امریکیوں کی طرح
مارکو کے لیے اب یہ خواب بہت مہنگا ہوتا جارہاہے۔
تیل کی قیمتوں
میں اضافے نے ان کے آنے جانے کے اخراجات میں تین گنا اضافہ کردیا ہے۔ انہیں دفتر کے لیے روزانہ 130 کلومیٹر سفر کرنا
پڑتا ہے۔ ان کے گھر کو گرم کرنے کا نظام گیس
پر ہے۔ اس کی قیمتوں میں بھی تین گنا
اضافہ ہوگیا ہے۔ مارکو کو اپنے لان کی
گھاس کاٹنے کے لیے ہرہفتے ڈیزل پر پچاس ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اور
جوانا کہتی ہیں کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی تقریباً دوگنی مہنگی ہوگئی ہیں۔
جوانا کہتی ہیں
کہ پہلے میں اپنے گھر کے پانچ افراد کے کھانے پینے پر دوسو ڈالر خرچ کرتی تھی اب
مجھے 350 ڈالر خرچ کرنےپڑتے ہیں۔
مارکو اور اس
کے خاندان کا خیال تھا کہ وہ کسی دن اس سے بھی بڑے کسی گھر میں منتقل ہوجائیں
گے۔ جان آئرنز جو اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ
میں ریسرچ ڈائریکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے بہت سے امریکیوں
کو اپنے رہن سہن کے اخراجات میں کمی پر مجبور ہونا پڑے گا۔
اکنامک انسٹی
ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جون آئرنز کہتے ہیں کہ اب لوگوں کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہ کس
انداز میں رہیں گے ، ان کا گھر کتنا بڑا
ہوگا اور وہ کہاں واقع ہوگا۔ اور اسی طرح
متوسط طبقے کو اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں بھی ایک بڑی تبدیلی لانی پڑےگی۔
مارکو کو یہ
محسوس ہوتا ہے کہ اس کی آمدنی اب بے وقعت ہوتی جارہی ہے۔ پہلے جوانا ہفتے میں تین دن گھر میں کھانا پکاتی
تھی اور باقی دنوں میں گھر سے باہر کھانا کھانے جاتے تھے۔ اب وہ روزانہ کھانا گھر پر ہی پکاتی ہے۔ مارکو دفتر جاتے ہوئے گھر میں بچاکچا کھانا ساتھ
لے جاتا ہے تاکہ اسے دوپہر کا کھانا خریدنا نہ پڑے۔
مارکو کہتے ہیں
کہ اب ہم اتنا گوشت نہیں خریدتے جتنا پہلے
لیتے تھے۔ اب ہم مرغ زیادہ کھاتے ہیں اور
چاول کی بجائے آلو کھاتے ہیں کیونکہ چاول بھی بہت مہنگے ہوگئے ہیں۔
جوانا کہتی ہیں
کہ اب ہم تفریح کے لیے بہت کم باہر جاتے ہیں۔ پہلے ہم فلم دیکھنے جایاکرتے تھے۔ اب ہم فلمیں کرائے پر لیتے ہیں ، انہیں گھر پر
دیکھتے ہیں اور پاپ کارن کھا کر اپنی شامیں گذارتے ہیں۔ کیونکہ اب اتنی مہنگائی ہوگئی ہے ، ہر چیز کی
قمیت تیس سے چالیس فی صد بڑھ گئی ہے۔
مارکو کے پاس
بہت کم تیل استعمال کرنے والی ہائی برڈ کار ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی ہائی برڈ
کار کو ہر ممکن حد تک کم چلاتے ہیں۔ انہوں
نے اپنے باس سے درخواست کی ہے کہ انہیں گھر پر بیٹھ کرہی دفتر کا کام کرنے کی
اجازت دی جائے تاکہ ان کی کچھ بچت ہوسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے میری گاڑی کی ٹینکی
بیس ڈالر کے تیل سے بھر جاتی تھی اور اب
مجھےاس پر پچاس سے زیادہ ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔
ان کی موجودہ
ملازمت کا کنٹرکٹ ایک مہینے میں ختم ہونے والا ہے اور اب انہیں اپنے مستقبل کی فکر
ہے۔
مارکو کو فکر
ہے کہ اگر میری نوکری تبدیل ہوجاتی ہے اور مجھے کوئی اور ملازمت مل جاتی ہے
اورمجھے وہاں موجودہ تنخواہ کے برابر پیسے ملیں تو بھی مجھے مزید آمدنی کی ضرورت
ہوگی۔ اب شایدگذر بسر کے لیے میری بیوی کو
بھی کوئی ملازمت کرنی پڑے۔
جان آئرنز
کہتے ہیں کہ مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور افراط زر کی وجہ سے لوگوں کی
آمدنیوں میں کمی آرہی ہے۔ جب آپ اوسط آمدنیوں کو دیکھتے ہیں تو ان میں 2000 میں آنے والے آخری مندی کے دور کے
بعد سے کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔
مارکو اور ان
کا خاندان اب سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں۔ مارکو کہتے ہیں کہ اب اکثر رات کو ان کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اپنے کیے
پر پچھتاتے ہیں کہ انہوں نے اتنا بڑا گھر کیوں خریدا تھا۔ انہیں امید ہے کہ ان کی یہ ملازمت برقرار رہے گی
اور نئے کنٹرکٹ میں ان کی تنخواہ میں اضافہ ہوجائے گا جس کے بعدشاید ان کے گھر کی
مالی حالت بہتر ہوسکے گی۔