 |
ہاتھی دانت |
افریقہ میں
ہاتھیوں کے تحفظ کو ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے ہمیشہ خطرہ رہا ہے۔ گزشتہ موسم بہار میں ہاتھیوں کی نسل کو ایک نیا
خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب جنوبی افریقہ نے
اضافی ہاتھیوں کے شکار پر تیرہ سال پہلے
لگائی جانے والی پابندی کو اٹھا لیا۔ اعلیٰ
عہدیداروں نے ہاتھیوں کے ریوڑوں میں سے پانچ ہزار تک جانور کم کرنے کا اعلان کیا
تھا۔ تاہم جانوروں کے تحفظ کی تنظیم کا
کہنا ہے کہ اس سے ہاتھی نسل ناپید ہونے کے
خطرے سے دوچار ہے۔
کینیا میں غیر
قانونی ہاتھی دانت کی تجارت سے نمٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے جلا دیا جاتا ہے یعنی بلیک مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے اسے تباہ کردیا جاتا ہے۔ 1979 میں ہاتھی دانت کی تجارت پر لگائ جانے والی عالمی پابندی سے قبل ہاتھی نسل ناپید ہونے کے
دہانے پر تھی جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ
اب بھی خطرے سے دوچار ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے اندازے کے مطابق سن 1900 میں افریقہ میں تیس سے پچاس لاکھ ہاتھی تھے جبکہ 1980 کے عشرے
کے آخر تک صرف پانچ لاکھ باقی رہ گئے تھے۔ آج کل ان کی تعداد کا اندازہ پانچ سے
سات لاکھ لگایا گیا ہے۔
فنڈ کے
مطابق وسطی اور مشرقی افریقہ کے
ممالک کے ہاتھیوں کی تقریباً نوے فیصد آبادی غیر قانونی شکاریوں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکی ہے۔ کینیا میں اب مسلح
گارڈز ہاتھیوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔ تاہم وہ ہمیشہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے۔
ہاتھیوں کو اب نسل کشی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی بین الاقوامی تجارت کے سی آئی ٹی ای ایس نامی کنونشن کا تحفظ حاصل
ہے۔
انٹرنیشنل
فنڈ فار اینیمل ویلفیئر کے پیٹر رسل کہتے ہیں کہ ہر کوئی اب یہ مانتا ہے کہ ایشیا
میں ہاتھی دانت کی سمگلنگ اور افریقہ میں
ہاتھیوں کے غیر قانونی شکار میں اضافہ ہوا ہے۔ افریقہ میں ہر سال بیس ہزار سے زائد
ہاتھی مارے جاتے ہیں۔
امریکی کانگریس
نے 1979 میں افریقی ہاتھیوں کے تحفظ کا ایک قانون پاس کیا جس کی پچھلے سال تجدید کی گئی تھی۔ یہ قانون ہاتھی
دانت یا ہاتھی کے جسم کے دوسرے حصوں کی امپورٹ پر پابندی لگانے کے ساتھ انٹرنیشنل
وائلڈ لائف کنزرویشن پروگرامز کے لیے فنڈز
بھی مہیا کرتا ہے۔
کانگریس مین
میڈی لین بورڈیلو کا کہنا ہے کہ کبھی کبھا ر ہم یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے اور نیشنل جیوگرافک میں ڈاکٹر فے کی کہانی پڑھ کر مجھے بہت زیادہ دلچسپی پیدا
ہوئی۔
محقق
اور کنزرویشنسٹ مائیکل فے نے چاڈ میں ہاتھیوں
کے تحفظ کے بارے میں لکھا۔ وہ وہاں غیر قانونی شکاریوں سے مقابلے کے لیے
گارڈز کی تربیت کرتے ہیں۔
کچھ افریقی
ممالک میں کنزرویشن پروگرامز کو کچھ غیر
ارادی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ عہدیدار کہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی تعدا د میں اضافہ
انسانوں کے لیے خطرہ اور فصلوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک ہاتھی دن میں تین سو
کلوگرام سبزہ کھا جاتا ہے۔
کینیا میں جب
ہاتھیوں کی آبادی میں اضافے کے باعث 2005
میں تعدا د بہت زیادہ ہوگئی تو حکومت
نے چار سو ہاتھیوں کو تین سو پچاس کلومیٹر دور ایک شمالی نیشنل
پارک میں منتقل کردیا۔ ہاتھیوں کی ایک
مستحکم آبادی کے مالک کچھ جنوبی افریقی
ممالک کے مطابق انہیں ہاتھیوں کے
تحفظ کے لیے درکار سرمائے کی فراہمی کے لیے ہاتھی دانت فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔ زمبابوے، بوٹس وانا اور نمبیا نے حال ہی میں ہاتھی دانت کی فروخت پر سے جزوی پابندی اٹھائی ہے۔ جنوبی افریقہ نے یہ
کہتے ہوئے کہ ملک میں ہاتھیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے، تیرہ سال کے بعد اضافی
ہاتھیوں کو تلف کرنے کا پروگرام دوبارہ
شروع کیا ہے۔
جنوبی ایشائی
عہدیداروں کے مطابق ان کی ہاتھیوں کی آبادی 1995 سے دگنی سے زیادہ ہوگئی ہے اور
اضافی جانوروں کی تلفی اس تعداد کو کنٹرول
میں رکھنے کا واحد طریقہ ہے۔
دوسرے سرگرم
کارکن کہتے ہیں کہ اضافی ہاتھیوں کی تلفی سے ہاتھی دانت کی طلب بڑھ جاتی ہے اور ان کی نسل کی بقا کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ ان کی رائے میں
اگر کچھ ممالک میں ہاتھی زیادہ ہیں تو انہیں براعٰظم کے دوسرے حصوں میں منتقل کردینا
چاہیئے۔ کچھ تنظیمیں ہاتھیوں کی ہلاکت کی
پالیسی کے باعث جنوبی افریقہ کے سیاحتی بائیکاٹ کرنے کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔