Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے ہاتھیوں کی نسل کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں


July 9, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

rtv 06apr world5 kenya elephants tusks 150.jpg

ہاتھی دانت

افریقہ میں ہاتھیوں کے تحفظ کو ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے ہمیشہ خطرہ رہا ہے۔ گزشتہ موسم بہار میں ہاتھیوں کی نسل کو ایک نیا خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب جنوبی افریقہ نے اضافی ہاتھیوں کے شکار پر تیرہ سال پہلے لگائی جانے والی پابندی کو اٹھا لیا۔ اعلیٰ عہدیداروں نے ہاتھیوں کے ریوڑوں میں سے پانچ ہزار تک جانور کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جانوروں کے تحفظ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سے ہاتھی نسل ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

کینیا میں غیر قانونی ہاتھی دانت کی تجارت سے نمٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے جلا دیا جاتا ہے یعنی بلیک مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے اسے تباہ کردیا جاتا ہے۔ 1979 میں ہاتھی دانت کی تجارت پر لگائ جانے والی عالمی پابندی سے قبل ہاتھی نسل ناپید ہونے کے دہانے پر تھی جبکہ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ اب بھی خطرے سے دوچار ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے اندازے کے مطابق سن 1900 میں افریقہ میں تیس سے پچاس لاکھ ہاتھی تھے جبکہ 1980 کے عشرے کے آخر تک صرف پانچ لاکھ باقی رہ گئے تھے۔ آج کل ان کی تعداد کا اندازہ پانچ سے سات لاکھ لگایا گیا ہے۔

فنڈ کے مطابق وسطی اور مشرقی افریقہ کے ممالک کے ہاتھیوں کی تقریباً نوے فیصد آبادی غیر قانونی شکاریوں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکی ہے۔ کینیا میں اب مسلح گارڈز ہاتھیوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔ تاہم وہ ہمیشہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے۔ ہاتھیوں کو اب نسل کشی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی بین الاقوامی تجارت کے سی آئی ٹی ای ایس نامی کنونشن کا تحفظ حاصل ہے۔

انٹرنیشنل فنڈ فار اینیمل ویلفیئر کے پیٹر رسل کہتے ہیں کہ ہر کوئی اب یہ مانتا ہے کہ ایشیا میں ہاتھی دانت کی سمگلنگ اور افریقہ میں ہاتھیوں کے غیر قانونی شکار میں اضافہ ہوا ہے۔ افریقہ میں ہر سال بیس ہزار سے زائد ہاتھی مارے جاتے ہیں۔

 امریکی کانگریس نے 1979 میں افریقی ہاتھیوں کے تحفظ کا ایک قانون پاس کیا جس کی پچھلے سال تجدید کی گئی تھی۔ یہ قانون ہاتھی دانت یا ہاتھی کے جسم کے دوسرے حصوں کی امپورٹ پر پابندی لگانے کے ساتھ انٹرنیشنل وائلڈ لائف کنزرویشن پروگرامز کے لیے فنڈز بھی مہیا کرتا ہے۔

کانگریس مین میڈی لین بورڈیلو کا کہنا ہے کہ کبھی کبھا ر ہم یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے اور نیشنل جیوگرافک میں ڈاکٹر فے کی کہانی پڑھ کر مجھے بہت زیادہ دلچسپی پیدا ہوئی۔

محقق اور کنزرویشنسٹ مائیکل فے نے چاڈ میں ہاتھیوں کے تحفظ کے بارے میں لکھا۔ وہ وہاں غیر قانونی شکاریوں سے مقابلے کے لیے گارڈز کی تربیت کرتے ہیں۔

کچھ افریقی ممالک میں کنزرویشن پروگرامز کو کچھ غیر ارادی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ عہدیدار کہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی تعدا د میں اضافہ انسانوں کے لیے خطرہ اور فصلوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک ہاتھی دن میں تین سو کلوگرام سبزہ کھا جاتا ہے۔

کینیا میں جب ہاتھیوں کی آبادی میں اضافے کے باعث 2005 میں تعدا د بہت زیادہ ہوگئی تو حکومت نے چار سو ہاتھیوں کو تین سو پچاس کلومیٹر دور ایک شمالی نیشنل پارک میں منتقل کردیا۔ ہاتھیوں کی ایک مستحکم  آبادی کے مالک کچھ جنوبی افریقی ممالک  کے مطابق انہیں ہاتھیوں کے تحفظ  کے لیے درکار سرمائے کی فراہمی کے لیے  ہاتھی دانت فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔  زمبابوے، بوٹس وانا اور نمبیا  نے حال ہی میں ہاتھی دانت کی فروخت پر سے  جزوی پابندی اٹھائی ہے۔ جنوبی افریقہ نے یہ کہتے ہوئے کہ  ملک میں  ہاتھیوں کی تعداد  بہت زیادہ ہوگئی ہے، تیرہ سال کے بعد اضافی ہاتھیوں کو تلف کرنے  کا پروگرام دوبارہ شروع کیا ہے۔

 جنوبی ایشائی عہدیداروں کے مطابق ان کی ہاتھیوں کی آبادی 1995 سے دگنی سے زیادہ ہوگئی ہے اور اضافی جانوروں کی تلفی اس تعداد کو کنٹرول میں رکھنے کا واحد طریقہ ہے۔

دوسرے سرگرم کارکن کہتے ہیں کہ اضافی ہاتھیوں کی تلفی سے ہاتھی دانت کی طلب بڑھ جاتی ہے اور ان کی نسل کی بقا کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ ان کی رائے میں اگر کچھ ممالک میں ہاتھی زیادہ ہیں تو انہیں براعٰظم کے دوسرے حصوں میں منتقل کردینا چاہیئے۔ کچھ تنظیمیں ہاتھیوں کی ہلاکت کی پالیسی کے باعث جنوبی افریقہ کے سیاحتی بائیکاٹ کرنے کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔

 

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
بھکر خود کش حملے کی تحقیقات جاری

  مزید خبریں
امریکی معیشت دوسرے صدارتی مباحثے کا ایک اہم موضوع بن سکتی ہے  Video clip available
پاک امریکہ کشدیدگی کا فائدہ القاعدہ کو ہوگا: امریکی تھنک ٹینکس  Video clip available
امریکی آٹو انڈسٹری بھی بحران کی لپیٹ میں،ستمبر میں گاڑیوں کی فروخت میں 27 فی صد کمی   Video clip available
زرداری بیان: کشمیر میں شدید مذمت، بھارتی حکومت کا خیر مقدم
صدر کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
صدارتی انتخابات میں چار ہفتے باقی: انتخابی مہم میں گہما گہمی
پیر کے روز حصص کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان
دارفر کے کلمہ کیمپ کی حفاظت کے لیے امن کار تعینات
زمبابوے میں شراکت اقتدار کے مذاکرات
ترک فضائیہ کا شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر حملہ
بہار کے سیلاب زدگان کی عید
ملائیشیا کے مقبول بلاگر کو الزام تراشی کے مقدمے کا سامنا
مالی مشکلات کے پیشِ نظر، پاکستان کی  ریٹنگ میں کمی
مصری پولیس نے غزہ کی پٹی میں طبی سامان لے جانے سے روک دیا
کرغزستان میں زلزلے سے 60 افراد ہلاک
2008 کا نوبیل انعام تین یورپی سائنس دانوں نے حاصل کرلیا
عالمی عدالت کے استغاثہ کی جانب سے یوگنڈا کے باغیوں کی گرفتاری کی اپیل
سری لنکا خودکش حملے میں کم از کم 20 ہلاک
بندکمرے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا تیسرامشترکہ اجلاس
”معزول ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھاکر حکومت پر دباؤ کم کر دیا“
کرغستان میں زلزلے سے کم ازکم 58 ہلاک
فلسطینیوں کے ساتھ  امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں:اسرائیلی وزیرِ خارجہ
کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟  Video clip available
امریکی نائب صدارتی مباحثے کے نوجوان ووٹرز پر اثرات  Video clip available
کلثوم لاکھانی اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کاروشن رخ سامنے لارہی ہیں  Video clip available
امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں میں دلچسپی ایک تاریخی واقعہ ہے  Video clip available
بھکر میں خودکش حملہ کم از کم 15 ہلاک