معاش کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھتے ہوئے انحصار نے آج کے دور میں بنیادی ضروریات زندگی کے تصورکو بہت حد تک تبدیل کر دیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اب روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ تیل اور گیس بھی عام آدمی کے لیے اہم مسائل بن گئے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان کی معیشت بھی شدید دباوٴ کا شکار ہے اس صورتحال کے نتیجے میں گزشتہ تین ماہ کے دوران ملک میں گرانی میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں ہر نئے دن کا آغاز قیمتوں میں نئے اضافے کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے بظاہر حکومت کا فی الحال کوئی ارادہ نظر نہیں آ رہا۔ اس کا اندازہ ملک میں گیس کی قیمتوں میں حالیہ 31 فیصد غیر معمولی اضافہ سے ہوتا ہے۔ جب کہ گیس کی قیمت کا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ابھی تک وطنِ عزیز میں جو گیس استعمال کی جا رہی ہے اس کے خزانے قدرت کا عطیہ ہیں ان کی تیاری پر حکومت کو کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا ۔تیل اور گیس کی قیمتوں کا براہِ راست اثر نقل و حمل پر ہوتا ہے۔ ایک طرف ایندھن کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں تو دوسری جانب اسی تناسب سے خوراک اور دیگر روز مرّہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے لوگوں کی قوت ِ خرید جواب دیتی جا رہی ہے جس سے ان کے معاشی مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے اور انہیں پہلے سے زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ محمد امجد کراچی کے ایک مقامی اسکول میں پرنسپل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”پہلے میری تنخواہ بیس ہزار تھی جس میں سے پانچ چھ ہزار فیول پر خرچ ہوتے تھے لیکن قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے اب میری تنخواہ میں سے ماہانہ نو ہزار تک فیول پر خرچ ہو جاتے ہے ۔ پہلے میں آٹھ گھنٹے کام کرتا تھا اور اب اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مجھے بارہ سے زائد گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔“ ایک گھریلو خاتون نے کہا کہ ”فیول کی وجہ سے ہر چیز اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ ہم نے اپنی دوسری ضروریات محدود کر دی ہیں لیکن ذاتی گاڑی رکھنا ہماری مجبوری ہے اس لیے جو حالات ہیں وہ ہم بر داشت کر رہے ہیں۔“
تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے لوگوں کی سماجی زندگی پر بھی اثر پڑ رہا ہے کیونکہ اپنے بجٹ اور سفر کو محدود کرنے کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں میل جول کی روایت متاثر ہو رہی ہے۔ اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے رشتہ داروں سے اب اُن کا ملنا جلنا کم ہو گیا ہے۔ اتنا فیول خرچ کرنے کے بجائے اب وہ فون پر بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے لیے پہلے کی طرح اپنی فیملی کو وقت دینا مشکل ہو گیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کس طرح فارغ اوقات کو بھی روز گار کے حصول کے لیے صرف کیا جائے۔
 |
|
تیل اور گیس کی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے غریب اور متوسط طبقے ہیں جن کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے وسائل کم اور مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس آمد و رفت کے لیے کوئی مناسب متبادل ذریعہ بھی موجود نہیں کیونکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کی صورتحال بھی غیر تسلی بخش ہے۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کے اس شہر میں ایک اندازے کے مطابق چالیس مسافروں کے لیے بس کی ایک سیٹ ہے۔ ایک اسٹاپ سے دوسرے اسٹاپ تک جانے کے لیے کرایہ آٹھ سے تیرہ روپے تک جا پہنچا ہے جو روز کی روزی کمانے والے افراد کے لیے دینا ممکن نہیں رہا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال بہتر ہوتی تو وہ سفر کے لیے پبلک بسوں کو ترجیح دیتے لیکن بسوں کی خستہ حالی کی وجہ سے متوسط طبقے کے ذاتی گاڑی رکھنے والے افراد ایسا صرف مجبوری میں ہی کرتے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ، توانائی کی شدید قلت ، تنخواہوں میں مناسب اضافہ نہ ہونا ، سرکاری سطح پر تعلیم اور صحت کی غیر معیاری سہولتیں جبکہ نجی سطح پر تعلیم اور صحت کا مہنگا ہونا ایسے مسائل ہیں جن سے متوسط اور غیرب طبقے پہلے ہی سخت پریشان ہیں۔ ایسے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم پر عائد ٹیکسوں کی بھرمار اور ان کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو وہ زیادہ دیر تک اس صورتحال کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم کی مصنوعات پر کم و بیش ایک درجن سے زائد ٹیکس عائد ہیں ان میں وار زون ٹیکس حتیٰ کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں ایک طوفان کے دوران متاثرین کی امداد کیلئے عائد کیا جانے والا ٹیکس بھی شامل ہے ۔یہی حال بجلی کے بلوں کا ہے کہ ریونیو کا ہدف پورا کرنے کیلئے میٹر ریڈنگ کے بغیر صارفین کو بل بھیج دیے جاتے ہیں ۔اس طرح جی ایس ٹی پر سرچارج سیلز ٹیکس اور ایک ہزار سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر ایک الگ ٹیکس عائد کرکے بل میں اضافہ کرکے ریونیو کا ہدف غلط طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس طرح غریب صارفین کی آمدن کا بڑا حصہ ان بلوں کی نذر ہورہا ہے ۔
 |
|
ملک میں توانائی کا بحران اور تیل کی قیمت میں تازہ اضافہ پر کا رو باری اور تجارتی حلقے بھی متفکر دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے گرانی کا ایک اور طو فان اٹھے گا اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کے لیے دوسرے ملکوں کی مصنوعات کا مقابلہ کرنا نا ممکن ہو جائے گا ۔ بر آمدات میں مزید کمی ہو گی ، تجاری خسارہ جو پہلے ہی پندرہ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اس میں مزید اضافہ ہو گا ۔ صنعتی اور کاروباری اداروں کی کارکردگی میں کمی اور ان کی بندش سے بے روز گاری بڑھے گی اور ملکی اور غیر ملکی سر مایہ کاری پر بھی انتہائی منفی اثرات مر تب ہو ں گے۔ ان طبقوں کا موقف ہے کہ تیل کی قیمت میں اضافے سے قومی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایک قومی حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ تیل ، ڈیزل اور دیگر در آمدی اشیاء کی قیمتوں پر اجارہ داری کا خاتمہ ہو سکے ساتھ ہی تیل ، گیس اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ملکی زرعی پیداوار میں بھرپور اضافے کی تدبیریں اختیار کی جائیں۔
پٹرولیم اور اسکی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے نچلی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے گی ایسے میں حکومت تیل پر زرتلافی کی بتدریج خاتمے کا فیصلہ بھی کرچکی ہے جس کے بعد حالات نہایت ابتری کی سطح پر ہوں گے ۔معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوگی جبکہ امن وامان کی صورتحال بھی خطرے سے دوچار ہوگی۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ غربت اور گرانی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے گراف کو کم کیا جاسکے۔