لال مسجد کے زیر حراست سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان کی قیادت میں بدھ کو مسجد کے صحن میں لگ بھگ دوہزار خواتین کا ایک بڑا اجتماع ہوا جس میں شرکاء نے پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے اور جہاد کے لیے اپنے بچوں کی پرورش کا عہد کیا۔یہ اجتماع گذشتہ سال 10جولائی کو مسجد کے خلاف فوجی آپریشن پر احتجاج کے سلسلے میں منعقد کیا گیا ۔
اس سے قبل آپریشن کے ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے اتوار کے روز بھی مسجد کے سامنے ایک ایسا ہی بڑا جلسہ کیا گیا لیکن اس کے اختتام پر حفاظتی اقدامات کے تحت تعینات کی گئی پولیس پر ایک خودکش بمبار نے حملہ کر دیا تھا جس میں 19افراد ہلاک ہوگئے تھے۔حملے کا شکار ہونے والوں کی اکثریت پولیس اہلکاروں کی تھی۔تاہم بدھ کے روز خواتین کا جلسہ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے پرامن طور پر منتشر ہوگیا۔
وفاقی دارلحکومت کے ایک مرکزی علاقے میں اس طرح کے اجتماعات کی اجازت دینے پر حکومت خصوصاً وفاقی وزارت داخلہ کے سربراہ رحمن ملک کو کڑی تنقید کا سامنا ہے کیونکہ ناقدین کے بقول ایک طرف تو حکومت بین الاقوامی برادری کو بار بار یہ یقین دہائی کرا رہی ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف مئوثر کوششیں کی جارہی ہیں لیکن دوسری طرف ایک ہفتے کے اندر لال مسجد میں دوسرا ایسا بڑا اجتماع ہوا ہے جس میں کھلم کھلا جہاد کے حق میں نعرے لگائے گئے اور موجودہ حکومت ، صدر مشرف اور امریکہ کی مذمت کی گئی ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مسجد سے منسلک زمین پر مسمار شدہ جامعہ حفصہ کی طالبات کی علامتی کلاسوں کے انعقاد سے بھی لال مسجد کے تنازعے کو ایک بار پھر زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو آگے چل کر حکومت کے مسائل میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے ۔