بھارت میں پاکستانی ڈراموں اور میوزک بینڈ کے شیدائیوں کی کمی نہیں ہے اور اب رفتہ رفتہ ایک ایسا طبقہ بھی ابھر رہا ہے جو پاکستانی فلموں کا شوقین ہے۔ شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ کو بھارتی سنیمابینوں نے بےحد سراہا۔ جب کہ اگست میں مہرین جبار کی فلم ’رام چند پاکستانی‘ بھی پاکستان اور بھارتی سنیما گھروں میں نمائش کے لیے ایک ساتھ پیش کی جائے گی۔ اِس کے علاوہ پاکستانی فلم ساز عمر علی خان کی فلم ’ذبح خانہ ‘ پاکستانی باکس آفس پر دھوم مچانے کے بعد بھارت میں بھی ریلیز کر دی گئی ہے۔
چالیس برس بعد پاکستان کی پہلی ہارر فلم
’ذبح خانہ‘اعلیٰ طبقے کے پانچ نوجوانوں کی کہانی ہے جو ایک راک کانسرٹ دیکھنے جاتے ہیں لیکن راستے میں ایک ایسے ویرانے میں گِھر جاتے ہیں جہاں دہشت کا راج ہے۔ فلم میں کئی خون آشام مناظر ہیں جو ناظرین کو لرزہ براندام کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ خودکش دھماکوں کی بھرمار کی وجہ سے پاکستانی خبروں دیکھنے والوں کے لیے خون آلود مناظر دیکھنا نئی بات نہیں ہے ، لیکن بظاہر عمر علی خان کی فلم کے سیاسی معانی نہیں ہیں۔ فلم کو بین الاقوامی فلمی میلوں میں بہت پذیرائی ملی ہے اور اب تک فلم ایک درجن سے زیادہ فلمی میلوں میں دکھائی جا چکی ہے۔برازیل کے شہر ریو میں منعقد کیے جانے والے ایک فلمی میلے میں ’ذبح خانہ‘کو بہترین فلم کا اعزاز بھی مل چکا ہے۔ پاکستان میں خوف ناک فلموں کی کچھ زیادہ رواج نہیں رہا۔ 1967ء میں پاکستان کی پہلی خوف ناک فلم ’زندہ لاش‘کے بعد اس موضوع کو کچھ زیادہ نہیں چھیڑا گیا۔ تاہم 40 برس کے بعد عمر علی نے اس میدان میں ’ذبح خانہ‘کے ذریعے قدم رکھاہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کی خستہ حالت کو دیکھتے ہوئے مسالہ فارمولے سے ہٹ کر فلم بنانے کے لیے پیسہ جمع کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔اسی لیے پاکستان کی اب تک کی بہترین ہارر فلم بنانے کے لیے عمر نے تقریبا 30 لاکھ روپے اپنی جیب سے لگائے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ عمر روایتی فلم ساز نہیں ہیں بلکہ وہ اسلام آباد میں آئس کریم کی مشہور دکان ’ہاٹ سپاٹ‘کے مالک ہیں۔ تاہم انھوں نے امریکہ میں فلم سازی کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ مہرین کو بھی اپنی تین کروڑ کے بجٹ کی فلم کو بنانے کے لیے دوستوں کی مدد لینی پڑی۔ تاہم پاکستان میں نئی سوچ رکھنے والے فلم ساز حالات کے سامنے ہتھیارڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بین ا لاقوامی فلمی میلوں میں پاکستانی فلموں کو اپنی منفرد کہانی کے لیے سراہا جا رہا ہے۔
گذشتہ چند سالوں میں پاکستانی فلمی صنعت میں آہستہ آہستہ ایسے نوجوان فلم ساز ابھر رہے ہیں جو پرانے گِھسے پٹے فارمولے پر فلم بنانے کی بجائے اصل زندگی سے جڑے واقعات اور پریشانیوں کو اپنی فلموں کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔