کشمیر میں لائن آف کنٹرول (LOC)کے دونوں جانب سفر اور تجارت کو فروغ دینے اور اعتماد سازی کے حوالے سے اقدامات پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات جمعہ کو اسلام آباد میں شروع ہوگئے ہیں۔بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ میں جنوبی ایشیا اور سارک کے لیے ڈائریکٹر جنرل عزیز احمد چوہدری کررہے ہیں جبکہ بھارتی وفد کے سربراہ ان کی خارجہ وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری T.C.A. Raghavanہیں۔
پاک بھارت ورکنگ گروپ کا یہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان 21مئی کو اسلام آباد میں ہونے والی اس بات چیت میں کیا گیا تھا جس میں جامع امن مذاکرات کے چوتھے دور میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیاگیاتھا۔
واضح رہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اب تک ہونے والی بات چیت میں اعتماد سازی بڑھانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں ان میں مظفر آباد ، سری نگر اور راولاکوٹ ، پونچھ بس سروس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر چار مقامات پر کراسنگ پوائنٹس کھولے گئے ہیں تاکہ دونوں اطراف بسنے والے منقسم کشمیری خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملنے میں سہولت ہو۔ان میں ٹیٹوال، تتہ پانی، چکوٹھی کے علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر کے دونوں حصوں کے مابین ایک ٹرک سروس شروع کرنے پر بھی بات چیت کو حتمی شکل دی جارہی ہے جبکہ دونوں طرف کشمیری رہنماؤں کو آنے جانے کے لیے سہولتیں دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں پچھلے چند سالوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین کئی مرتبہ پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے دورے کر چکے ہیں۔
امن بات چیت کے آغاز سے پہلے لائن آف کنٹرول پرپاکستان اور بھارت نے جنگ بندی کا جو اعلان کیا تھا اس پر بھی دونوں ملک پوری طرح عملدرآمد کررہے ہیں تاہم حالیہ مہینوں میں فائرنگ کے اکا دکا تبادلوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں لیکن دونوں ملکوں کے حکام کی طرف سے ان واقعات پر بیانات سے اس تاثرکی نفی ہوئی ہے کہ کشمیر میں فائر بندی ختم ہوگئی ہے۔