 |
| ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متکی |
ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متکی نے کہا ہے کہ انہیں تہران میں امریکہ کی سفارتی موجودگی اور دونوں ملکوں کے درمیان
براہ راست پروازوں کے آغاز کا امکان دکھائی دتیا ہے۔
جمعے کے روز ترکی کے دارالحکومت
انقرہ میں گفتگو کرتے ہوئے منوچہر متکی نے کہا کہ نیا مذاکراتی عمل مستقبل کی سمت ایک
اچھی پیش رفت کی علامت ہوگا۔ انہوں نے
کہاکہ تہران میں امریکی سفارتی موجودگی اور دونوں ممالک کے درمیان پروازیں
شروع کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت کا امکان ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں امریکہ نے
کہا تھا کہ وہ ہفتے کے روز جنیوا میں ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعید جلالی
اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے
سربراہ ہاویئر سولانا کے درمیان ہونے والے
والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اپنے اعلیٰ
سفارتی عہدے دار معاون وزیر خارجہ ولیم برنز کو بھیج رہا ہے۔
مذاکرات میں برنز کی شمولیت
امریکی پالیسی میں تبدیلی کی غماز ہے۔ بش انتظامیہ طویل عرصے سے یہ اصرار کررہی
تھی کہ جب تک ایران یورینیم کی افزودگی بند نہیں کرتا وہ اس کے ساتھ مذاکرات نہیں
کرے گا۔