 |
| براک اوباما |
4 نومبر کو ہونے والے امریکہ کے صدراتی انتخابات ماضی سے
بالکل مختلف ہوں گے۔ امریکی تاریخ میں
پہلی بار ایک بڑی پارٹی کا امیدوار سینیٹر براک اوباما ایک رنگ دار شخص ہے۔ اپنے نئے صدر کا انتخاب کرتے وقت کئی امریکی
ووٹروں کو سامنے نسلی تعصب بھی ہوگا۔
سیاسی تجزبہ
کار اس حوالے سے اپنے نظریات پیش کررہے ہیں۔ پروفیسر لیری سیباٹو ، جن کا تعلق یونیورسٹی آف
ورجینیا سے ہے، کہتے ہیں کہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں رنگ کا مسئلہ بہت اہم
ہوگا۔
براک اوباما
کی متوقع صدارتی نامزدگی سے کئی اہم رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ مگر وہ پہلے شخص نہیں ہیں جو وائٹ ہاؤس میں
پہنچنے کے لیے انتخابی اکھاڑے میں اترے ہیں۔
1972 میں
نیویارک کی ڈیموکریٹک کانگریس وویمن شرلی کیشالم نےیہ کوشش کی تھی مگر پارٹی کی
نامزدگی جیتنے میں ناکام رہیں۔
1968 میں جب
شرلی ایوان نمائندگان میں ایک پہلی سیاہ فام خاتون کے طورپر داخل ہوئیں تو یہ وہ
وقت تھا جب امریکی قوم کو جنوب میں نسلی تعصب اور امتیازی سلوک کے حوالے سے انسانی
حقوق کے لیے مظاہروں کا سامنا تھا۔
یہ مظاہرے
اپریل 1968 میں انسانی حقوق کے ایک بڑے امریکی راہنما ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ
جونیئر کے قتل کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے اور سیاہ فام غصےسے بپھرے ہوئے تھے۔
اس کے سولہ
سال بعد جیسی جیکسن نے1984 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنی صدارتی نامزدگی کے لیے مہم چلائی۔ انہوں نے پارٹی کے پرائمری انتخابات میں 35 لاکھ
کے لگ بھگ ووٹ حاصل کیے۔ دوسری بار انہیں اُس وقت ناکامی کاسامنا کرنا پڑا تھا جب
انہوں نے 1988 میں اپنی اس مہم میں پہلے سے دگنے ووٹ حاصل کیے۔
براک اوباما
خود کو ایک مختلف قسم کے امیدوار کے طورپر پیش کررہے ہیں۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے
تھامس من کا کہنا ہے کہ براک اوباما نے اقلیت کی نئی نسل کے ایک نمائندے کے طورپر
سامنے آئے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی کسی تحریک کی پیدوار نہیں ہیں۔ وہ افریقی امریکن کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ
نہیں لے رہے بلکہ وہ براک اوباما کے طورپر صدراتی انتخاب لڑنے جارہے ہیں۔