اگلے مہینے
کے آخر میں ڈینور میں ہونے والے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں تقریباً 50 ہزار کے قریب لوگ جمع ہوں گے۔ ان میں امریکہ کی ہرریاست سے ڈیلگیٹس کے علاوہ 15 ہزار کے قریب
صحافی بھی شامل ہوں گے۔ کنونشن کا شہر جو
4 دن تک امریکہ اور پوری دنیا کی توجہ کا
مرکز بنا رہے گا اس وقت تیار یوں میں مصروف ہے۔ جب پارٹی نے
ڈیموکریٹک کنونشن کے لیےڈینور کو چنا تو کیمرون موڈی نے چارج سنبھالا۔ کیمرون جو چار مرتبہ پہلے بھی کنونشنز کے منتظم رہ چکے ہیں کہتے ہیں کہ ڈینور امریکہ
کے دوسرے بڑے شہروں کے مقابلے میں کچھ فوقیت رکھتا ہے جن میں سے ایک یہاں کا نیا
اور بڑا ائیرپورٹ ہے۔
ڈیموکریٹک
کنونشن شہر کا سخت ترین سیکورٹی چیلنج ہوگا۔ صرف حفاظتی اقدامات پر پانچ کروڑ ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔ ڈینور کے میئر، لوکل، سٹیٹ اور فیڈرل حکام کے درمیان
اقدامات کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ جن میں مظاہرین کوروکنا تونہیں مگر کنٹرول کرنا
شامل ہے۔
شہر اس
کنونشن کو ماحول دوست بنانے کے لیے پر عزم ہے۔ پپسی سینٹر کے لیے توانائی کے
متبادل ذرائع، بجلی سے چلنے والی بسیں اور ڈیلیگیٹس کو مختلف جگہوں پر لے جانے کے
لیے کم پیٹرول استمال کرنے والی گاڑیاں استعمال کی جائیں گی۔ ڈیموکریٹک نیشنل
کنونشن میں میزبانی کرنے والی مقامی کمیٹیوں میں رضا کاروں کی تعداد اہلکاروں سے زیادہ
ہے۔ جیسے نائیجیریا میں پیدا ہونے والے
جانز ازیومو جنہوں نے امریکی شہریت حاصل کرنے کے چند ہی دن بعد اپنا نام رضا کاروں
میں درج کروایا۔
ازیومو ان 26
ہزار لوگوں میں سے ایک ہیں جو رضا کارانہ طور پر ڈرائیورز اور گائڈز کے طور پر کام
کریں گے۔ اگرچہ ضرورت اس سے صرف آدھی تعداد میں کام کرنے
والوں کی تھی۔ مقامی میزبان کمیٹی کے ترجمان کرس لوپیز کہتے ہیں کہ
اتنی مدد دیکھ کر ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے مگر ان کے نزدیک کنونشن کی کامیابی
کا اندازہ جمع ہونے والی رقم سے لگایا جائے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس کے لیے 16 کروڑ ڈالرز جمع کیے جائیں گے۔