مغرب مذہب
اسلام کے بارے میں کن غلط فہمیوں میں اور کیوں مبتلا ہے ؟ اس بارے میں پائی جانے والی غلط سوچ کو
دور کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ان دنوں امریکہ میں مختلف تھینک
ٹینکس میں بحث مباحثوں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔اکثر مبصرین
اور سکالرز کی رائے میں امریکہ میں مسلمانوں کی زندگی یورپی مسلمانوں سے ایک لحاظ سے خاص طور سے مختلف ہے اور
وہ ہے ان کا امریکی
معاشرے کے مرکزی دھارے کا حصہ
ہونا۔ تاہم گیارہ ستمبر اور اس کے بعد
ہونے والے دہشت گردی کے کئی واقعات
کی وجوہات کے سلسلے میں جس تواتر کے
ساتھ مسلمانوں کا نام سامنے آیا اس نے عالم اسلام اور خود مذہب اسلام کے بارے میں نہ
صرف نئی غلط فہمیوں کو جنم دیا بلکہ ذہنوں میں
پہلے سے موجود غلط تصورات اور
الجھنوں کو بھی زبان پر آنے میں مدد دی۔
لیزا کرٹس کا
کہنا ہے کہ میرے خیال سے بہت زیادہ غلط فہمیاں اور غلط معلومات زیادہ تر
گیارہ ستمبر کے بعد پیدا ہوئیں۔ پچھلے کئی سالوں سے دنیاکا یہ خطہ تشدد اور افراتفری کا ماخذ رہا
ہے جس سے غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے۔ مجھے
امید ہے کہ اس قسم کا ڈائیلاگ مباحثوں سے
دونوں جوانب یٰعنی مسلم دنیا اور مغرب کے
لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے میں
مددگار ہوسکتا ہے۔
افغانستان میں
گوتم بدھ کے تاریخی مجسمے تباہ کردیئے جایئں ، لندن بم دھماکے ہوں یاپھر
انتہا پسندی کا کوئی اور مظاہرہ ، یہ حقیقت ہے کہ
ماضی قریب میں مسلمانوں کے ایسے کسی
بھی غلط سمجھے جانے والے قدم کو ان کے مذہب سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ اور
کیوں اس کا جواب دیتے ہوئے یونیورسٹی آف رچمنڈ کی پروفیسر ڈاکٹر عزیزہ
الحبری نےکہا کہ ہمیں یہ سجمھنا چاہیے کہ اس وقت
مغرب کی آواز زیادہ مضبوط ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان بھی اپنی
رائے کو مؤثر بنائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنی تحریروں کابھی حوالہ دیا۔
مسلم وومین
لائیرز فار ہیومن رائیٹز کی بانی اور صدر
ڈاکٹر عزیزہ الحبری نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلمان سنبھل جایئں ، اپنی معیشت کو ترقی
دیں ، اپنی کمیونٹی میں تعلیم کو فروغ دیں ،اپنی آوازوں کو مضبوط بنائیں اور کھڑے
ہوکر برابری کی سطح پر بات کریں تو کوئی
وجہ نہیں کہ کوئی ان کے خلاف بات
کرسکے۔ ان کے مطابق اس وقت اسلام کے بارے
میں مغرب میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی
ذمے دار ی بڑی حد تک خود مسلمانوں پر بھی عائد ہوتی ہے