 |
| ڈینور کا مشہور پیپسی سنٹر جہاں اس سال ڈیموکریٹک پارٹی کی کنونشن منعقد ہو گی |
اپنا صدارتی
امیدوار نامزد کرنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی نے
100برس پہلےڈینور میں ایک اجلاس
منعقد کیا تھا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر 25سے
28 اگست تک ڈیلیگیٹس یہاں اکٹھے ہوں گے۔ گو کہ اب ریاست کولوراڈو کے دارلحکومت میں
اُنہیں بہت سی تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ مگر
ان کے مقاصد وہی ہیں جو آج سے ایک صدی پہلے اکٹھے ہونے والے ڈیلیگیٹس کے تھے۔
یہ شہر جو
اگلے مہینے ڈیموکرٹک ڈیلیگیٹس کو خوش آمدید کہے گا ایک تاریخی حیثیت کا حامل
ہے۔ ڈینور کی تاریخ 1859 سے شروع ہوتی ہے
جب کولوراڈو میں سونے کی تلاش شروع ہوئی چیری کریک اوردریائے ساؤتھ پلیٹے کے سنگم پر بہت سے لوگوں
کی قسمت بنی اور پھر سونے کی کانوں کی وجہ سے خطے کی معیشت بھی خوب مضبوط ہوئی۔
1904 میں مئیر رابرٹ سپیر کا انتخاب ڈینور کی تاریخ میں ایک اہم
موڑ ثابت ہوا۔ یونیورسٹی آف کولوراڈو میں تاریخ کے پروفیسر ٹام نویل کہتے ہیں کہ سپیر نے ایسے ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جن
کی وجہ سے 1908 میں ڈینور کو ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے لیے منتخب کیا گیا۔
ٹام نویل
کہتے ہیں ہیں کہ انہیں امید تھی کہ سپیر اس شہر کو ایک خوبصورت شہر
یعنی واشنگٹن ڈی سی۔ پیرس اور برلن
کی طرز پر بنانا چاہتے تھے اور انہوں نے بہت سے باغات اور پارویز ، ایک خوبصورت
سوک سینٹر اور ایک با لکل نیا آڈیٹوریم بنایا۔
ایک صدی پہلے
اس آڈیٹوریم کے باہریہاں کے مقامی افراد نے پہاڑیوں کے سائے اور برف سے لدی ہوئی ویگنوں
میں ڈیموکریٹک ڈیلیگیٹس کا استقبال کیاتھا۔ انڈینز نے جنگی ڈانس پیش کیے۔
آج یہاں سیکورٹی
پر 5 کروڑ سے زیادہ کی رقم خرچ کی جا رہی ہے۔
جبکہ 1908 میں یہ خرچ نہ ہونے کے
برابر تھا۔ ٹام کہتےہیں کہ اس وقت صرف چند پولیس والے تھے۔ اور اس وقت کا واحد مسئلہ جیب کتروں کو پکڑنا
تھا۔
1908 میں ڈیموکریٹک پارٹی
کے صدارتی امید وار ولیم جینگز برین ، موجودہ ممکنہ امیدوار سینٹر براق اوباما ی طرح ہی شعلہ
بیاں تھے نویل کہتے ہیں کہ تب بھی کچھ بڑے
مسائل تھے جنہوں نے معیشت کو متاثر کیا تھا جیسے آج عراق اور تب کا مسئلہ تھا امریکن جنگ اور خواتین کے حقوق کا ہنگامہ۔
ٹام نویل کا
کہنا ہے کہ امریکہ میں سب سے پہلے
کولوراڈو نے 1893 میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا تھا۔ اور ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن دونوں پارٹیوں کے
کنونشن میں خواتین ڈیلیگیٹس نے ووٹ دیئے۔
مگر ڈنیور سے لوگ مایوس بھی ہوئے کیونکہ ڈیموکریٹکس ملکی سطح پر خواتین کو درپیش
مشکلات کے خاتمے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔
اب 2008 میں
شہر کے لیڈرز یہ امید رکھتے ہیں کہ کنونشن پر خرچ ہونے والےکروڑوں ڈالرز کے باعث
شہر کی معیشت پروان چڑھے گی اور سیاحت کو
فروغ ملے گا۔ نویل کہتے ہیں کہ اُس وقت بھی
منتظمین یہ سمجھتے تھےجب ڈینور کی سونے کی کانیں ختم ہو رہی تھیں۔
گو اس مرتبہ
اگست میں ڈیلیگیٹس کے لیے موسم گرما کی شدت کم
کرنے کے لیے پہاڑیوں سے برف تو نہیں لائی جائے گی مگر ڈیموکریٹک نیشنل
کنونشن میں آنے والے 50 ہزار افراد اس شہر کےلوگوں کا جوش اور زندہ دلی
دیکھیں گے جو آج سے ایک صدی پہلےاس شہر کا
کنونشن سٹی بننے کا جشن بھی منائیں گے۔