اسرائیلی حکومت نے دریائے اردن
کے مغربی کنارے پر ایک متنازعہ بستی تعمیر کرنے کے منصوبے پر نظر ثانی کی ہے۔
جمعرات کے روز سرکاری عہدے
داروں نے کہا کہ اسرائیل وادیِ اردن کے ایک سابق فوجی اڈے مسکیوت میں 20 مکان
بنانے کی تیاری کررہا ہے۔
اسرائیل عہدے داروں نے وہاں پر
2006 ءمیں کالونی بنانے کا منصوبہ بنایا تھا مگر بین الاقوامی دباؤ کے باعث اس پر
عمل کرنے سے اجتناب کیاتھا۔
فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات
نےنئی کالونی کی تعمیر کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ اس سے امریکی پشت پناہی میں
جاری امن مذاکرات پر منفی اثر پڑے گا۔
تعمیر کے آغاز کے لیے اب بھی
اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود باراک کی منظوری درکار ہے اورایک سرکاری ترجمان مارک
ریگیو نے کہا ہے کہ اسرائیل موجودہ حدود سے باہر کالونیاں نہ بنانے کے وعدوں کی پاس داری کرے گا ۔
ایک اور خبر کے مطابق فلسطینی
پولیس اور میڈیا نے کہا ہےکہ مغربی کنارے کے ایک گاوٴں پر تقریباً 150 اسرائیلی
آبادکاروں نے حملہ کر کے وہاں بلوہ کیا۔فوری طور پر کسی کے زخمی ہونے کی کوئی
اطلاع نہیں ملی۔