لاپتا افراد کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ جا سکتے ہیں: متاثرین
اسد حسن واشنگٹن July 24, 2008
موجودہ عدالتیں آزاد نہیں، حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے، انصاف کے لیے اقوام متحدہ یا کسی اور بین الاقوامی فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان میں لاپتا افراد کے اہل خاندان کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی نمائندہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے وائس آف امریکہ کے پروگرام ’ آج شام‘ میں اظہار ِخیال کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے ناموں پر مشتمل وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔ اقدامات لینے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کچھ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ آمنہ مسعود نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی بھی ان کے مدعے کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کررہی اور معاملات ویسے ہی ہیں جیسے گذشتہ حکومت یا صدرمشرف کے دور میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صدرمشرف اور ملکی خفیہ اداروں کی مرضی کے منافی کوئی قدم لینے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو موجودہ عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں ہے اور بعید نہیں کہ وہ انصاف کے لیے بین الاقوامی دروازوں پر دستک دیں۔ ہیں۔ آمنہ مسعود نے بتایا کہ ان کے شوہر مسعود سمیت لاپتا افراد کے معاملے پر پاکستان کے خفیہ ادارے امریکی انٹیلی جنس سی آئی اے کی ایما پر کام کر رہے ہیں اور لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے پر بھی انہیں ملک کے خفیہ اداروں کی جانب سے زباں بندی کے احکامات یا دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پچاس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں بہت سے لاپتا افراد کے بارے میں تفصیلات درج ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آمنہ جنجوعہ کو پاکستان میں اپنا اعزازی نمائندہ بھی مقرر کیا ہے۔ ادارے کی رپورٹ میں گیلانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے لا پتا افراد کورہا کیا جائے یاکم از کم ان کو منظرعام پر لا کر ان کے خلاف مقدمات کی عدالتوں میں سماعت کی جائے۔