دنیا میں بہت
سے ایسے ملک ہیں جہاں کے قوانین ، ضابطے
اور سرکاری عہدے دار نئے کاروبار شروع کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور
اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کاروبار پر غیر ضروری بندوشوں کے باعث وہاں
معاشی ترقی کا عمل سست اور بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے۔
سان فرانسسکو
کے کریگ نیومارک کے لیے کاروبار شروع کرنا آسان تھا۔ ایک عشرے قبل کسی پرمٹ یا سرکاری اجازت نامے کے
بغیر انہوں نے اپنے آن لائن بلٹن بورڈ کے لیے ایک ویب سائٹ بنا لی تھی۔ آج کریگ
لسٹ ڈاٹ آرگ دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹس
میں شامل ہے جس پر پانچ سوسے زیادہ شہروں کے لیے بلٹن بورڈ ز
موجود ہیں۔
کریگ نیومارک کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر ہم ایک بہت سادہ ویب
سائٹ فراہم کرتے ہیں جہاں پر لوگوں کی روز مرہ کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں مثلاً نوکری، یا رہنے کی جگہ کی تلاش ،یہ ایک
طرح کا اتوار بازار ہے۔ یہ سائٹ خوب کام کررہی ہے اور ہماری کامیابی کی ایک
وجہ یہ ہے کہ ہم معمول سے ہٹ کر کام کرتے ہیں۔
لیکن بہت سی حکومتیں معمول سے ہٹنے کی قائل نہیں ہیں۔ روس میں کاروباری پرمٹ کے لیے رشوت دینا ایک معمول کی بات ہے۔ ایک کیمیاوی
کمپنی کی عہدے دار یانا یاکوف لیفا کو سات مہنیے قید کاٹنی پڑی تھی کیونکہ انہوں
نے ایک سرکاری عہدے دار کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے انکار کردیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ روس میں غیر قانونی طرز عمل اس
لیے جاری ہے کیونکہ روس کا عدالتی نظام
بدعنوان ہے۔
یانا کہتی ہیں
کہ روس میں پراسیکیوٹر کا کام تفتیش کرنا
نہیں ہے۔ اُس کا کام اپنی کارکردگی ثابت
کرنا ہے۔ اور بہتر کارکردگی کا اظہار یہ
ہے کہ کتنے مقدمے عدالت میں لائے گئے اور کتنوں کے خلاف جرم ثابت کیا گیا۔
کاروبار میں یانا
کے شراکت کار ایلکسی پروٹسکی کو غیر ضروری
ضابطوں اور رپورٹنگ کے تقاضوں کے بارے میں شکایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی منیجر پر بہت زیادہ کاغذی کارروائیوں کے بوجھ کا مطلب ہے کہ وقت کا ضیاع اور کارکنوں
کی کارکردگی میں کمی۔
کراکس وینزویلا
میں کھانے پینے کی چیزوں کے کاروبار سے وابستہ ایک شخص سین ٹیاگو ایلوریز کا کہنا ہے کہ وہاں سرکاری عہدے دار کاروبار میں
رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ
کو کاروبار کرنے کے لیے بےشمار مرحلوں ،
ضابطوں اور کارروائیوں کے لیے سرکاری حکام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں ایسے لوگوں
کو جانتا ہوں جنہیں اس بے تحاشا بیوروکریسی کی وجہ کاروبار چھوڑنا پڑا۔
اسلام آباد میں
ایک ریسٹورانٹ چلانے والے اشعر حفیظ کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں کارروبار پر عائد
پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے مگراب بھی رکاوٹیں مودجود ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ
کاروبار کو چلانے میں ہمیں کئی محکموں ، مثلاً سوشل سیکیورٹی، ٹیکس اور مقامی
حکومت وغیرہ ،کی طرف سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عالمی بینک
ہر سال ایسے ملکوں کی درجہ بندی کرتا ہے جو کاروبار شروع کرنے میں آسانیاں فراہم
کرتے ہیں۔ اس میں دس پہلوؤں کوسامنے رکھا
جاتا ہے۔ جن کا تعلق لائسنس کا حصول،
املاک کی رجسٹریشن ، قرضے ، ٹیکس اور کنٹریکٹوں
پر عمل کرانا ہیں۔
عالمی بینک کی
ایک ماہر ڈالیا خلیفہ کہتی ہیں کہ اب رجحان نجی شعبے کی مدد کی طرف ہے۔ وہ کہتی ہیں
کہ یہی وہ چیز ہے جو میں سمجھتی ہوں کہ اب حکومیتں اس کا اداراک کررہی ہیں۔ یعنی ضابطوں پر عمل درآمد کرانا اور ساز گار
ماحول فراہم کرنا۔ اس حوالے سے وہ یہی کچھ
کررہے ہیں۔ وہ اصلاحات کررہے ہیں ، وہ ان
قوانین میں تبدیلیاں لارہے ہیں جو عشروں سے کتابوں میں تھے اور جن کا آج کی دنیا میں کوئی عمل دخل نہیں
رہا ہے۔
گذشتہ سال
مصر اصلاحات کے لحاظ سے پہلے نمبر پر رہا، اس کے بعد کروایشیا ، گھانا، مقدونیہ
اور جارجیا رتھے۔
بینک کا کہنا
ہےکہ مصر ، کسی کاروبار کے آغاز کے لیے درکار سرمائے کی اس طرح کمی کرتا ہے کہ
املاک کی رجسٹریشن کی فیس کم کردی جاتی ہے اور ضابطوں کی اُن سرکاری کارروائیوں کو
آسان بنا دیا جاتا ہے جن کی وجہ سے تعمیراتی اجازت نامے تاخیر کا شکار ہوجاتے تھے۔
مگر کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی
ضرورت ہے۔