حکومتِ پنجاب نے آٹا مل مالکان
سے کہا ہے کہ وہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت پر آٹا فراہم کریں وگرنہ اُن کی ملیں بند
کر دی جائیں گی، جب کہ آٹا مل مالکان کا کہنا ہے کہ جس وقت کٹائی ہو رہی تھی اُس
وقت حکومت نے اُنہیں گندم خریدنے سے روک دیا تھا۔ اب بازار سے مہنگی گندم خرید کر سستا آٹا بیچنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔
پنجاب فلور ملز ایسو سی ایشن کے
صدر حبیب لغاری نے اِس حوالے سے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اِس وقت مارکیٹ سے اُن
کو 20کلوگندم 400روپے میں مل رہی ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ 'حکومت ہمیں کہتی ہے کہ آپ
365روپے میں فروخت کریں جو ممکن نہیں۔'
اُنہوں نے کہا کہ ایسو سی ایشن نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے
کہ فلور ملوں کو گندم کا کوٹہ جاری کیا جائے تاکہ سستے داموں آٹا بیچا جا سکے۔
واضح رہے کہ حکومت نے ذخیرہ
اندوں اور مہنگا آٹا بیچنے والوں کے خلاف پورے صوبے میں پولیس کو کارروائی کا حکم
دے رکھا ہے مگر اس کے باوجود مہنگا آٹا فروخت کرنے کی شکایات عام ہیں۔
مبصرین کہتے ہیں کہ رمضان
المبارک بھی آنے والا ہے اور اُس وقت آٹے کی مانگ میں اضافےسے صورتِ حال اور بھی
پیچیدہ ہو سکتی ہے۔