اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ یونان اور ترک قبرص کے عہدے دار بحیرہٴ روم کے منقسم
جزیرے قبرص کے مستقبل پر تین ستمبر کو
مذاکرات شروع کریں گے۔
قبرص میں اقوامِ متحدہ کے مشن کے سربراہ تائے بروک زریون نے
یہ اعلان جمعے کے روزقبرص کے صدر ڈیمیٹریس کرسٹوفیاس اور ترک قبرص کے راہنما محمت علی طلت کے درمیان مذاکرات کی
میزبانی کے بعد کیا۔
قبرص 1974ءمیں اُس وقت نسلی طور تقسیم ہوگیا تھا جب ترک
فوجیوں نےیونان کے فوجی انقلاب کے جواب میں اس پر حملہ کیاتھا۔
تازہ ترین مذاکرات کا مقصد چار سال سے تعطل کے شکار اس
مسئلے کو حل کرنا ہےجب یونانی قبرص کے لوگوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں مستقل حل
کی اس تجویز کو ووٹوں کے ذریعے مسترد کردیا تھا۔ تاہم ترک قبرصی ووٹروں نے اسے
قبول کرلیا تھا۔