براک اوباما اور نکولا سرکوزی (بائیں) کی پیرس میں ملاقات
امریکی صدارتی امیدوار براک اوباما نے پیرس میں فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ایران پر زور دیا کہ بین الاقوامی مطالبات پر عمل کر کے وہ یورینیم کی افزودگی ختم کر دے۔ اس موقعے پر فرانس کے صدر نکولا سرکوزی بھی موجود تھے۔ اوباما نے کہا کہ ایران کو یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے اگلے امریکی صدر کا انتظار نہیں کرنا چاہیئے کیوں ان کے خیال میں ایران پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔
فرانسیسی صدر سرکوزی کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت کے بعد دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کی صورتِ حال غیر معمولی طور پر سنگین ہے۔ اوباما نے کہا کہ سرکوزی نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کی اہمیت پر بھی ان سے اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ ماحولیات کے مسئلے سے نمٹنے پر بھی دونوں رہنماؤں میں اتفاقِ رائے پایا گیا۔ اوباما اب برطانیہ کا دورہ کریں گے جہاں ان کی برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن سے ملاقات متوقع ہے۔ جب اوباما سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ان کا صدر سرکوزی کے بارے میں کیا خیال ہے تو انھوں نے کہا کہ مغرب اس وقت اپنی بہترین شکل میں ہوتا ہے جب وہ سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے اس بات کا ذکر بھی کیا کہ ان کی طرح سرکوزی کے والد بھی تارکِ وطن تھے۔ جمعرات کے روز اوباما نے برلن میں تقریباً دو لاکھ کے مجمعے سے خطاب کیا ، جس میں انھوں نے یورپیوں اور امریکیوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کریں۔ انھوں نے یورپ سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں استحکام لانے اور عراق میں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کا ساتھ دے۔