پنجاب حکومت نے جمعے کے روز محکمہٴ پولیس کی پبلک استغاثہ برانچ میں مختلف شعبوں پر فائز 488 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر ِ قانون رانا ثنا اللہ نے لاہور میں ایک کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے دورِ حکومت میں ان کے بقول ان نا اہل ملازمین کی بھرتی اقربا پروری کا واضح مظاہرہ تھا۔ ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان ملازمین کی غیر قانونی بھرتی کا معاملہ ہائی کورٹ میں لے جایا گیا تھا اور ہائی کورٹ نے اس کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کرنے کو کہا تھا جس میں ایک ریٹائرڈ جج بھی شامل کیا گیا تھا۔ وزیرِ قانون کے بقول اس کمیٹی کی سفارشات کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا گیا ہےاور یہ کہ اب نئی بھرتیاں قابلیت کی بنیاد پر ہوں گی۔ درایں اثنا پنجاب حکومت نے صدر مشرف کی حامی پی ایم ایل (ق) کی سابقہ حکومت کے دور میں ذرائع ابلاغ میں تشہیری مہم پر دو ارب 37کروڑ روپے کے اخراجات کی انکوائری کرنے کے لیے ایک تین رکنی ٹربیونل بھی قائم کر دیا ہے جو اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا یہ خطیر رقم سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے تو استعمال نہیں کی گئی تھی۔ پی ایم ایل (ق) کی قیادت موجودہ حکومت پر یہ الزام عاید کرتی ہے کہ وہ سیاسی انتقام لینے کی خاطر ان کی جماعت کے خلاف ایسی کارروائیاں کر رہی ہے۔