اطلاعات کے مطابق طالبان نے آٹھ پاکستانی شہریوں کو رہا کر
دیا ہے۔ رہائی پانے والوں میں ایک پولیس اہل کار، ایک بنکار اور مختلف سرکاری
اداروں کے ملازمین شامل ہیں۔یہ رہائی قبائلی عمائد اور جنگ جوؤں کے درمیان ہونے
والی جرگے کی وساطت سے عمل میں آئی ہے۔
یہ رہاشدگان ان دو درجن کے لگ بھگ افراد میں شامل ہیں جنھیں طالبان نے دو ہفتے
قبل اغوا کیا تھا۔ حکومت نے چند ہی روز قبل ہنگو میں طالبان کے خلاف آپریشن ختم کر
دیا تھا۔
جرگے کے ارکان نے
ذرائعِ ابلاغ کو بتایا کہ حکومت اور مبینہ طالبان جنگ جوؤں کے درمیان دیگر تنازعات
کے حل کے لیے مذاکرات آئندہ پیر کو ہوں گے۔ ان تنازعات میں پولیس کے زیرِ حراست
سات طالبان کی رہائی، اور طالبان کے پاس یرغمال سرکاری اہل کاروں کی بازیابی سرِ
فہرست ہیں۔
ادھر سوات میں مولانا فضل اللہ کی زیرِ قیادت طالبان کے
ساتھ معاہدے کے تحت حکومت نے مزید قیدیوں کو رہا کر دیا۔ سوات میں صورتِ حال اور
امن معاہدے کے بارے میں سرکاری کمیٹی میں شامل رکن صوبہ سرحد اسمبلی ڈاکٹر شمشیر
علی خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سوات میں طالبان اور حکومت کے درمیان امن
معاہدہ برقرار ہے، دو قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جب کہ باقیوں کو بھی جلد ہی رہا
کر دیا جائے گا۔ لیکن انھوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ بعض عناصر یہ نہیں
چاہتے کہ یہاں امن برقرار رہے۔
صوبہ
سرحد میں حکومت اور جنگ جوؤں کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل اور اختلافات کے باوجود
جاری ہے۔