بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں بس سٹاپ پر بم دھماکے کے بعد پولیس تفتیش میں مصروف
پولیس نے کہا ہے کہ جمعے کے روز بھارت کے شہر بنگلور میں دھماکوں کے سلسلے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ 15منٹ کے اندر اندر کم از کم سات دھماکے ہوئے۔ بس سٹاپ پر ہونے والے ایک دھماکے میں ایک عورت ہلاک ہو گئی۔ بنگلور کے پولیس کمشنر شنکر بدری نے کہا کہ بظاہر اکثر دھماکوں میں دھماکا خیز جیلاٹین استعمال کی گئی تھی جس کے ساتھ گھڑیاں نصب تھیں۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ یہ بم گھریلو ساخت کے تھے اور ان میں نٹ اور بولٹ بھرے ہوئے تھے۔ ان بموں میں ایک یا دو گرینیڈوں کی طاقت تھی۔ دھماکوں کے فوراً بعد کئی سکولوں، شاپنگ سنٹروں اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنیاں بند کردی گئیں۔ بھارتی حکومت نے دارالحکومت دہلی اور ممبئی میں بھی ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی۔ اب تک کسی فرد یا تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی، تاہم ماضی میں بھارت کے دوسرے شہروں میں ایسے دھماکوں کا الزام اسلامی شدت پسندوں پر ڈالا جاتا رہا ہے۔ دو ماہ قبل جے پور میں بازاروں اور ہندو مندروں کے آگے سائیکلوں پر نصب سات بم پھٹے تھے، جن میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بنگلور بھارت کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مرکز کہلاتا ہے او اس میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ کمپیوٹر کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔