نیپال کی ماؤ نواز جماعت نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ نئی
حکومت ملک کی قیادت کرے مگر یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ دوسری سیاسی جماعتیں
شرائط پر متفق ہوجائیں۔
اس ہفتے کے شروع میں ماؤ نواز راہنماؤں نے کہا تھا کہ صدارت
کے رسمی عہدے کے لیے ان کے امیدوار کا مسترد ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پاس
مخلوط حکومت کی قیادت کے لیے حمایت موجود نہیں ہے۔
اب ماؤ نواز جماعت کے سربراہ پراچندا نے کہا ہے کہ ان کی
جماعت صرف اسی صورت میں حکومت بنائے گی اگر دوسری جماعتیں اس پر متفق ہوجائیں کہ
وہ کم ازکم دوسال تک حکومت نہیں گرائیں گی۔
انہوں نے جمعرات کو یہ بھی کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں حزبِ
اختلاف کی تین اہم جماعتیں، نیپالی
کانگریس پارٹی، یونائیٹڈ مارکسسٹ لینن نواز پارٹی اور مدھیشی پیپلز رائٹس پارٹی
اپنا نیا اتحاد ختم کردیں اور تمام جماعتیں بقول ان کے اکثریتی جماعت ماؤ نوازوں
کے ایجنڈے کےکم سے کم عمومی پروگرام پر متفق ہوجائیں۔
حزبِ اختلاف کی ان تین اہم جماعتوں کی جانب سے ابھی ماؤ نوازوں کے مطالبوں کو پورا کرنا باقی
ہے۔